تعلیم و روزگار میں مراٹھا تحفظات کیلئے احتجاج ، کئی علاقوں میں بسوں پر حملے، آتشزنی اور ٹرینوں پر سنگباری
ممبئی ۔ 25 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) تحفظات کے حامی مراٹھا گرپوں کی طرف سے منایا جانے والا ایک روزہ مہاراشٹرا بند آج اچانک درمیان میں ہی واپس لے لیا گیا جب یہ احتجاج پرتشدد موڑ اختیار کر گیا اور ایک شخص زہرنوشی کے سبب فوت ہوگیا۔ تشدد میں دوسرا شخص ہلاک اور دیگر 54 زخمی ہوگئے ۔مراٹھا تحفظات کے حامی احتجاجیوں نے بسوں پر حملے کرتے ہوئے بشمول ممبئی مہاراشٹرا کے کئی مقامات پر آتشزنی اور ٹرینوں پر سنگباری میں ملوث ہوگئے۔ مراٹھا تنظیموں نے اس برادری کو تعلیم و روزگار میں تحفظات کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ تشدد کے واقعات میں بشمول ایک سپرنٹنڈنٹ پولیس تین پولیس اہلکار سنگباری میں زخمی ہوئے۔ احتجاجیوں نے ممبئی۔ پونے اور ممبئی۔ گوا شاہراہوں کو کئی گھنٹوں تک بند کردیا تھا۔ پرتشدد احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس نے کئی مقامات پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ مہاراشٹرا کے مختلف علاقوں میں بند کی شکل میں یہ احتجاج جاری تھا جو آج ممبئی پہنچا، جہاں احتجاجیوں نے دوکانوں اور دیگر اداروں کو زبردستی بند کروانے کی کوشش کی۔ تاہم ہندوستان کا مالیاتی و تجارتی صدر مقام کہلائے جانے والے شہر ممبئی میں یہ بند آج صبح شروع ہوا تھا جو مختلف مقامات پر تشدد کے سبب سہ پہر 3 بجے واپس لے لیا گیا۔ مورچہ کے لیڈر ویریندر پوار نے کہا کہ ’’ہم صرف یہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم متحد ہیں اور یہ ثابت کردیا گیا۔ ہم اس احتجاج کو کبھی بھی پرتشدد بنانا نہیں چاہتے تھے لیکن ممبئی کے باہر تشدد پھوٹ پڑنے کی اطلاعات کو ملحوظ رکھتے ہوئے بند کو درمیان میں ہی واپس لے لیا گیا‘‘۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس نے بند کی اپیل کرنے والے تمام قائدین کو مسئلہ کے حل کیلئے بات چیت پر مدعو کیا ہے۔ مورچہ کے ایک اور لیڈر نے کہا کہ 9 اگست کو پھر ایک مرتبہ بند منایا جائے گا۔