مودی و بی جے پی زوال پذیر، راہول و اپوزیشن کی ترقی

لوک نیتی ۔ سی ایس ڈی ایس۔ اے بی پی موڈ آف دی نیشن سروے

نئی دہلی ، 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) چار سال قبل 2014ء کے عام چناؤ کے موقع پر نریندر مودی سیاسی شہرت کی بلندی پر تھے ۔ ان کے مقابل سیاسی منظر پر یکایک اُبھرنے والے اروند کجریوال کو اہمیت دی جارہی تھی اور راہول گاندھی کو قومی سطح پر سیاسی مقبولیت کے معاملے میں کافی فرق کے ساتھ تیسرے نمبر پر بتایا جارہا تھا۔ تاہم، ان چار برسوں میں سیاسی طور پر بہت کچھ بدلتا نظر آرہا ہے ‘ بالخصوص نصف میعاد کے بعد مودی حکومت کی جانب سے نوٹ بندی اور پھر چند ماہ بعد جی ایس ٹی کے نفاذ نے بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت کو عوام میں غیرمقبول بنا دیا ہے اور اس کے ساتھ مودی کی سیاسی مقبولیت کے گراف میں تیزی سے گراوٹ دیکھی جارہی ہے۔ اب سیاسی مبصرین اور مختلف نوعیت کے سروے کرنے والے ادارے کہنے لگے ہیں کہ راہول گاندھی نے کانگریس کی کمتر انتخابی کامیابیوں کے باوجود تیزی سے ترقی کی ہے ۔ چنانچہ جس امر کے بارے میں سوچنا مشکل ہورہا تھا، اب اس کی پیش قیاسی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم مودی کو 2019ء میں سخت چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ’لوک نیتی۔ سی ایس ڈی ایس۔ اے بی پی موڈ آف دی نیشن سروے‘ جو پندرہ روز قبل شائع کیا گیا‘ اس نے برسراقتدار پارٹی کی شکست کا امکان ظاہر کیا ہے۔ اس کے چند اخذکردہ نکات نہایت حیران کن ہیں:
٭ مودی کی حکومت موجودہ طور پر ایسی ہی غیرمقبول ہے جیسے جولائی 2013ء میں یو پی اے کا معاملہ تھا جس کے نو ماہ بعد 2014ء میں اسے بری طرح انتخابی شکست ہوئی۔ سروے کے جملہ 15,859 شرکاء میں سے تقریباً نصف (47%) کی رائے ہے کہ مودی حکومت ایک اور موقع کی مستحق نہیں ہے۔
٭ جہاں مسلمان، عیسائی اور سکھ جیسی اقلیتیں شدید طور پر حکومت کے خلاف ہیں، وہیں اکثریتی ہندو کمیونٹی اس کی حمایت؍ مخالفت کے بارے میں عملاً منقسم ہے۔
٭ گزشتہ 12 ماہ میں بی جے پی کی مقبولیت سات فیصدی پوائنٹس گھٹ گئی ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو برسراقتدار پارٹی آئندہ چند ماہ میں 30 فیصدی نشان سے نیچے پہنچ سکتی ہے۔
٭ کانگریس نے قومی سطح پر 25%ووٹ حاصل کئے اور سابقہ یو پی اے کو ملک بھر میں 31% ووٹ حاصل ہوں گے۔ یہ اعداد و شمار کانگریس کے نئے اتحادوں جیسے مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی، اکھلیش یادو کی سماجوادی پارٹی اور دیوے گوڑا کے جنتادل یوکے بغیر ہے، جن کے ساتھ نئے یو پی اے کی طاقت میں 11 فیصدی پوائنٹس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔
٭ بی جے پی اور حلیفوں نے اس سروے میں 37 فیصدی ووٹ حاصل کئے؛ انھیں گجرات اسمبلی الیکشن کے بعد سے ضمنی چناؤ میں مستعملہ ووٹوں کا 36 فیصد حصہ حاصل ہوا ہے۔
٭ کانگریس اور حلیفوں نے اس سروے میں 31 فیصدی ووٹ حاصل کئے اور حقیقی طور پر انھیں 32 فیصد ووٹ ملے ہیں۔
٭ مودی ووٹر کی حمایت کے معاملے میں اب راہول کے مقابل معمولی فرق سے آگے ہیں؛ اُن کی 17 فیصدی پوائنٹس کی سبقت گھٹ کر صرف 10 فیصدی پوائنٹس رہ گئی ہے۔ مساوی 43 فیصد ہی مودی اور راہول کو پسند کرتے ہیں، اور چونکہ پہلے کے مقابل کمتر لوگ راہول کو ناپسند کرتے ہیں، اس لئے اُن کی ’’خالص مقبولیت‘‘ حقیقی معنی میں مودی سے بہتر ہے۔
٭ راہول نے اپنے تقریباً30%مخالفین کو مطمئن کرتے ہوئے ’’حامی‘‘ بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے؛ اس کے برعکس مودی نے اپنے 35% حامیوں کو مخالفین بنالیا ہے۔
٭ راہول کو سب سے زیادہ فائدہ ادھیڑ عمر اور زیادہ عمر والے ووٹروں (جن کا پولنگ کے دن گھر سے نکل کر ووٹ ڈالنے کا زیادہ امکان رہتا ہے) میں ہوا ہے؛ مودی کا زوال متوسط اور نچلے طبقے کے ووٹروں میں شدید ہوا ہے۔
٭ یہ حیران کن ہے کہ زائد از 60 فیصد کا احساس ہے کہ مودی حکومت بدعنوان ہے؛ زائد از 50 فیصد نے نیرؤ مودی کے اسکام کے تعلق سے سن رکھا ہے، اور ان میں سے دو تہائی اب تک کی گئی کارروائی یا بے عملی پر غیرمطمئن ہے۔
٭ کسان تیزی سے مودی سے دور ہورہے ہیں، یہ گراوٹ ایک سال میں 12 فیصدی پوائنٹس ہے اور ان میں سے زیادہ تر فوائد غیرکانگریس علاقائی پارٹیوں کو مل رہے ہیں۔
٭ سوائے شمالی ہند ، مودی نے ہر جگہ تائید و حمایت کھوئی ہے، سب سے زیادہ جنوب، مغرب اور وسطی ہند میں محرومی ہوئی ہے۔
٭ جی ایس ٹی (گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس) مودی کی بڑی مصیبت بن رہا ہے، اس کی غیرمقبولیت ابتر ہورہی ہے جو (جنوری تا مئی) 24 فیصد سے 40 فیصد ہوگئی۔
اس طرح 2019ء کی مسابقت بہت کھل گئی ہے۔ مودی جب انتخابی مہم چھیڑیں اور اپنے مخصوص انداز میں ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کریں تو بہت کچھ تبدیل ہوسکتا ہے لیکن بعض باتیں بہت واضح ہیں۔ راہول اب صرف مودی بھکتوں میں معمولی لیڈر ہوسکتے ہیں لیکن تمام دیگر ووٹروں کیلئے وہ ایک متبادل لیڈر کے طور پر بتدریج اُبھر رہے ہیں ۔