ممنوعہ ماؤسٹ پارٹی کے سرکردہ جوڑے کی خودسپردگی

حیدرآباد ۔ /9 اکٹوبر (سیاست نیوز) ممنوعہ ماؤسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک سرکردہ جوڑے نے کمشنر پولیس حیدرآباد کے روبرو خودسپردگی اختیار کرلی ۔ تفصیلات کے بموجب 68 سالہ کے پرشوتم عرف وجئے نے 1981 ء میں نکسلائیٹ تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور 1982 ء میں اس نے کے وینودنی عرف جیالکشمی سے شادی کی تھی ۔ پروشوتم نے ماؤسٹ پارٹی میں مختلف عہدوں بشمول اسٹیٹ کمیٹی ممبر اور سنٹرل کمیٹی ممبر کی حیثیت سے بھی کام کیا ۔ اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے پولیس کمشنر حیدرآباد انجنی کمار نے کہا کہ خودسپرد ہونے والے ماؤسٹ پروشوتم کو سال 1991 ء میں دیگر تین ماؤسٹوں کے ساتھ وشاکھاپٹنم میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ اسی دوران ماؤسٹوں نے اس وقت کے سکریٹری یوتھ کانگریس پی سدھیر کمار جو سابقہ مرکزی وزیر پی شیوشنکر کے فرزند تھے کا اغواء کرلیا تھا ۔ کانگریس لیڈر کی رہائی کے عوض پرشوتم اور دیگر کو پولیس نے رہا کردیا تھا ۔ پرشوتم نے ماؤسٹ پارٹی میں سرگرم رول ادا کرتا رہا اور وہ گزشتہ 13 سال سے پولیس کو انتہائی مطلوب سنئر ماؤسٹ لیڈر اکی راجو ہری گوپال عرف آر کے سے مسلسل ربط میں تھا ۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ خودسپرد ماؤسٹ پروشوتم شہر میں خفیہ طور پر پناہ لئے ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ماؤسٹ کی بیوی ونودنی نے بھی ماؤسٹ تنظیم میں گزشتہ کئی سالوں سے اہم رول ادا کیا ہے جبکہ وہ پیشہ سے ٹیچر تھی لیکن پروشوتم سے شادی کے بعد اس نے ممنوعہ تنظیم میں سرکردہ خاتون کیڈر کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے پولیس کو چکمہ دیتی رہی ۔ لیکن حالیہ دنوں وجئے لکشمی مختلف عارضہ کا شکار ہوگئی جس کے نتیجہ میں اس نے پولیس کو خودسپرد کرنے کا فیصلہ کیا ۔