ملک میں عام انتخابات شروع ہو چکے ہیں اور اسکے لئے پہیلے مرحلہ کل جمعرات کو پولنگ ہوئی الیکشن کمیشن کی کارکردگی زیادہ قابل تعریف نہیں رہی ،اسلئے کہ بعض علاقوں میں مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی وارداتیں پیش آئی ،اور بعض علاقوں میں توڑپھوڑ کے واقعات بھی سننے کو ملے ۔
ادھر جموں کشمیر کے بارہمولہ ضلع میں ووٹرس کی اچھی کارکردگی پر فاروق عبداللہ صاحب نے کہا کہ عوام میں بیداری آئی ہے اور اس ملک کی عوام کے ایک تبدیلی چاہتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اپ اس ملک کی عوام یہ طئی کرے گی کہ اسے ایک سیکولر ہندوستان چائیئے یا ہندو راشٹر چاھیئے ۔
نیشنل کانفرنس کے صدر وسرینگرحلقہ سے امیدوارڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بدھ کے روزاندرونی خودمختاری کی بات کہی تھی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ لوگ، نہ صرف علیحدہ وزیراعظم یا صدرِریاست چاہتے ہیں بلکہ یہ اندرونی خود مختاری بھی چاہتے ہیں جیسا کہ سال انیس سو تِرپن کے بعد تھی۔وہیں فاروق عبداللہ نے علیحدہ وزیراعظم کے ریمارکس پرمرکزی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
فاروق عبداللہ کا کہناہے کہ اگردفعہ 370کوہٹایاجاتاہے توریاست کاملک سے الحاق کیسے باقی رہے گا۔ فاروق عبداللہ نے مزید اگر ایساہواتوہم ان سے آزاد ہوجائیں۔ این سی صدرنے کہا کہ ریاست کے مسلم اکثریتی موقف کو تبدیل کرنے کی بڑی سازش رچی جارہی ہے۔فاروق عبداللہ نے کہا کہ اگرایسی کوئی کوشش ہوتی ہے تووہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔