لڑکیوں کی شادیوں میں والدین کو شدید مشکلات ۔ مسلم لڑکے و لڑکیوں کے میڈیکل کالجس میں مفت داخلے خوش آئند ۔ دو بہ دو پروگرام سے جناب زاہد علی خان کا خطاب
حیدرآباد 7 ؍ اکٹوبر ( سیاست نیوز) جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے کہا کہ مغربی تہذیب کی تقلید و نقش قدم پر گامزن ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو سنگین مسائل سے دو چار ہونا پڑ رہا ہے ۔ان مسائل سے نکلنے واحد راہ یہی ہے کہ والدین اسلامی احکامات کو اپنے پر لازم و ملزم کرتے ہوئے تعلیم و تربیت کو اہمیت دیں ۔ شکر خداوندی ادا کیا جانا چاہئے کہ لڑکوں کو عرب و مغربی ممالک میں روزگار کی وجہ سے مسلمانوں میں خوشحالی پیدا ہوئی ہے ۔ لیکن والدین یا لڑکوں کی کمائی ہوئی دولت کو لے کر شادی بیاہ تقاریب میں اسراف و فضول خرچی کر رہے ہیں جو معیوب بات ۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خان نے سیاست اور ملت فنڈ کی جانب سے منعقدہ 87 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام سے کیا جو ایس اے ایمپرئیل گارڈن ٹولی چوکی میں منعقد ہوا ۔ شہ نشین پر غلام محی الدین ‘ ناظم الدین ‘ صالح بن عبداللہ باحاذق ‘ محمد تاج الدین ڈپٹی ڈائرکٹر انوسٹیگیشن ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری اور دوسرے موجود تھے ۔ جناب زاہد علی خان نے کہاکہ تعلیم کا شعبہ ان دنوں بڑا مہنگا ہو رہا ہے ۔ لڑکا ہو یا لڑکی خانگی میڈیکل کالج میں داخلہ کے خواہاں ہیں تو انہیں ایک کروڑ دیڑھ کروڑ روپئے ہاتھ میں رکھنا ہوگا ۔ مگر خوش آئند بات یہ دیکھی جا رہی ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں کڑی محنت کرکے گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلہ لے رہی ہیں ۔ انہوں نے دونوں شہروں اور ملک بھر میں شادیوں میں اسراف اور فضول خرچی پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم کے بعد والدین کی یہ فکر رہتی ہے کہ کسی اچھے گھرانے میں لڑکا یا لڑکی کا بیاہ کر دیا جائے لیکن 80 کے دہے میں دیکھا گیا جب سیاست کی جانب سے دونوں شہروں میں جو لڑکیاں بڑھتی ہوئی مانگ کے بناء غیر شادی شدہ ہیں جس پر رپورٹ یہ آئی ان دنوں کہ شہر میں 30 ہزار سے زائد لڑکیاں بن بیاہ بیٹھی ہیں جن کے والدین لڑکوں کے والدین کے مانگوں کو پورا نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہاکہ بعض والدین کڑی محنت کرکے روزانہ اجرت کماتے ہیں اور غربت کی وجہ سے پریشان ہیں ان کیلئے اپنی لڑکیوں کی شادیاں مسئلہ ہے اور مقروض ہونے کا خوف انہیں اچھے و تعلیمیافتہ رشتے تلاش کرنے میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔ اسی بناء پر لڑکیوں کی عمر حد سے تجاوز کرتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹولی چوکی کے اطراف مسلمانوں کی بڑی تعداد ہے اور اس میں اکثر این آر آئی بھی ہیں وہ سنجیدگی سے شادی کو آسان بنانے آگے آئیں تو یہ مسئلہ حل ہوسکے گا ۔ جناب زاہد علی خان نے کہا کہ لندن میں مقیم والدین نے فون پر اس بات کی خواہش کا اظہار کیا کہ ان کی تعلیم یافتہ لڑکی کیلئے موزوں رشتہ تلاش کریں اعلان کیا گیا ۔ جناب محمد معین الدین صدرنشین ٹولی چوکی کالونیز نے کہاکہ اکثر گھرانوں میں دیکھا گیا کہ والدین غیر تعلیم یافتہ ہیں مگر ان کے ہاں لڑکیاں تعلیم یافتہ ہیں ۔ مگر ان کے رشتوں کی تلاش میں کوئی سہولت نہیں ہے ۔ ان کیلئے دوبہ دو ملاقات پروگرام سنگ میل ثابت ہو رہاہے ۔ جناب چاند کی قرأت کلام پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا ۔ فرحین بیگم نے نعت شریف سنائی ۔ 87 ویں دوبہ دو ملاقات پروگرام میں والدین اور سرپرستوں نے جناب زاہد علی خان اور جناب ظہیرالدین علی خان منیجنگ ایڈیٹر سیاست سے مختلف کاؤنٹرس پر ملاقات کرکے اپنے بائیو ڈاٹاس کی مدد سے مشاورت کی اور ملک اور بیرون ممالک میں اس پروگرام کے راست ٹیلی کاسٹ کئے جانے پر مبارکباد پیش کی ۔ دوبہ دو ملاقات پروگرام کا 11 بجے دن سے آغاز ہوا ۔ والدین کی بڑی تعداد لڑکوں اور لڑکیوں کے بائیوڈاٹاس رجسٹریشن کرواتے دیکھی گئی ۔ انجنیئرنگ میں محمد انورالدین ‘ شاہد حسین ‘ ماجد انصاری ‘ میڈیسن میں ڈاکٹر دردانہ ‘ شاہانہ ‘ پوسٹ گریجویشن کاؤنٹر پر رئیسہ ‘ ناظم الدین ‘ گریجویشن کاونٹر پر تسکین ‘ الیاس باشاہ ‘ ایس ایس سی و انٹرمیڈیٹ کاونٹر پر ثانیہ ‘ لطیف النساء ‘ آمنہ ‘ تاخیر شادی کاؤنٹر اور معذورین کے کاؤنٹر پر کوثر جہاں ۔عقدثانی کاؤنٹر پر مشاہدہ کروانے کے علاوہ رجسٹریشن کاؤنٹر پر ریحانہ نواز ‘ مہر النساء ‘ ترنم خان ‘ سمیا‘ فرحین ‘ تحسین ‘ فرحانہ اور افسر نے فوٹوز اور بائیو ڈاٹاس رجسٹریشن کئے ۔ اس کے علاوہ سپروائزنگ اسٹاف کی حیثیت سے محترمہ خدیجہ سلطانہ ‘ ڈاکٹر ایوب حیدری ‘ فریدہ اور فرزانہ نے فرائض انجام دیئے ۔ انہوں نے ایسے مرد و وخواتین جو معذور اور کمزوری کی بناء پروگرام میں شرکت کی مدد کرتے دیکھے گئے ۔ پروگرام میں سابق کی طرح کمپیوٹرس کی مدد سے والدین نے لڑکوں اور لڑکیوں کی فوٹوز کا مشاہدہ کیا ۔ اس کے علاوہ پروگرام میں سیاست میٹری ڈاٹ کام کا ایک کاونٹر وموجود تھا جس کی نگرانی محترمہ شمیم بیگم نے کی ۔ ایسے والدین جو گھربیٹھے رشتوں کی تلاش کرنے کے خواہاں ہیں انہوں نے اس کاؤنٹر سے مدد حاصل کی۔ 10 بجے دن رجسٹریشن کا آغاز ہوا ۔ 3 بجے دن تک جاری رہا ۔ لڑکیوں کے 200 اور لڑکوں کے 150 رجسٹریشن کئے گئے ۔ جناب خالد محی الدین اسد کو ارڈینیٹر سے کئی والدین اور سرپرستوں نے ملاقات کی ۔ انہوں نے مختلف کاؤنٹرس پر اپنے لڑکوں اور لڑکیوں کیلئے رشتہ تلاش کرنے میں تعاون کیا اور نگرانی کی ۔ انہوںنے بتایا کہ اس پروگرام میں شہر ہی نہیں بلکہ اضلاع سے بھی والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ حسب سابق دوبہ دو ملاقات پروگرامس کی طرح اس پروگرام کو شہر حیدرآباد ملکی اور عالمی سطح تک راست ٹیلی کاسٹ ‘ یوٹیوپ ‘ فیس بک اور سیاست ٹی وی کے ذریعہ مہیا کی گئی تاکہ ایسے تارکین وطن جو امریکہ ‘ کینڈا ‘ آسٹریلیا ‘ سعودی عرب ‘ متحدہ عرب امارات ‘ ابوظہبی ‘ قطر میں شارجہ اور یوروپی ممالک میں مقیم ہیں ۔ انہوں نے پروگرام کو راست دیکھا اور پروگرام پر اپنے تاثرات میں خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے جناب زاہد علی خان اور جناب ظہیرالدین علی خان اور اسٹاف کو مبارکباد پیش کی ۔ انتظامیہ نے پروگرام کی کامیابی پر ایس اے ایمپرئیل گارڈن اور جناب جناب محمد معین الدین صدر فیڈریشن ٹولی چوکی کالونیز اور دیگر سے اظہار تشکر کیا ہے ۔ والدین اور سرپرستوں کی بڑی تعداد جو تعطیل کے باعث پہنچی جس کی وجہ سے شادی خانہ تنگ دامنی کا شکوہ کر رہا تھا ۔ آج کے دوبہ دو ملاقات پروگرام کا 4 بجے شام اختتام عمل میں آیا ۔ جناب شاہد حسین نے پروگرام کی کارروائی چلائی اور تمام کا شکریہ ادا کیا۔