مسلمانوں کو دھمکیاں دینے والا شخص ثالث نہیں ہوسکتا : شاہی امام مولانا سید احمد بخاری 

نئی دہلی : بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی حق ملکیت کے معاملہ میں شری شری روی شنکر کو ثالث بنائے جانے پر شاہی امام مولانا سید احمد بخاری نے نہ صرف یہ سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا ہے بلکہ مسلم فریقین کو بھی کٹھرے میں کھڑا کردیا ہے جنہوں نے شری شری روی شنکر کو ثالث بنائے جانے کی تائید کی ہے ۔

شاہی امام جامع مسجد دہلی نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا کہ بابری مسجد تنازعہ کو حل کرنے کیلئے سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ کمیٹی میں روی شنکر کی شمولیت کی وجہ سے اس عمل کی کامیابی پر شکوک و شبہا ت کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بات چیت کے ذریعہ سے مسئلہ کو حل کرنے کے خلاف نہیں ہیں لیکن سپریم کورٹ نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے اس میں روی شنکر کی شمولیت پر ہمیں اعتراض ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ جو شخص جانبدار رہا وہ ثالث کیسے ہوسکتا ہے ؟

شاہی امام نے کہا کہ روی شنکر کا موقف سب کے سامنے واضح ہے ۔ شری شری روی شنکر دھمکی آمیز انداز میں مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ وہ بابری مسجد کی زمین سے دستبردار ہوجائیں ۔