سرخ سیارہ پر جھیل دریافت ، زندگی کی تخلیق وجود و بقاء میں معاون
حیدرآباد ۔ 28 ۔ جولائی : ( پریس نوٹ) : سرخ سیارہ مریخ زائد از ایک دہائی بعد 30 اور 31 جولائی کو کرہ ارض سے بہت قریب آجائے گا اور کھلے آسمان پر سادہ آنکھ سے اپنے معمول کے حجم سے کہیں زیادہ بڑا اور چمکدار نظر آئے گا ۔ بی ایم برلا سائنس سنٹر کے ڈائرکٹر بی جی سدھارتھ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے مزید کہا کہ یوروپی خلائی ادارہ نے راڈار تصاویر استعمال کرتے ہوئے مریخ کے بارے میں انتہائی حیرت ناک ، سنسنی خیز ، معلومات فراہم کئے ہیں ۔ اطالوی سائنسدانوں نے 20 کلومیٹر وسیع ٹھنڈے پانی کی جھیل دریافت کی ہے ۔ سائنسدانوں نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس کو کئی دہائیوں تک ضمنی سطح سمجھا گیا تھا لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا زندگی کی تخلیق کے لیے یہ کافی ہوجائے گی ۔ امریکی وائیکنگ خلائی گاڑیوں نے مریخ پر زندگی کے لیے اس سیارہ کی سطح کا تفصیلی جائزہ لیا لیکن وہاں زندگی کے وجود سے متعلق نتیجہ اخذ نہیں کیا ۔ ڈاکٹر سدھارتھ نے خیال ظاہر کیا کہ مریخ میں سیال پانی کی موجودگی زندگی کی تخلیق وجود اور بقاء کے لیے ایک غیر معمولی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگی ۔۔