کولمبو۔ 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) مالدیپ کے مرد آہن سمجھے جانے والے صدر عبداللہ یامین کی پارٹی نے گزشتہ ماہ منعقد ہوئے انتخابات میں ان کی شکست فاش کو چیلنج کرتے ہوئے عدالت میں ایک درخواست کا ادخال کیا ہے جبکہ ان پر بین الاقوامی سطح پر مسلسل یہ دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ اپنے عہدہ سے دستبردار ہوجائیں۔ دریں اثناء مالدیپ میں یامین کی پروگریسیو پارٹی کے وکلاء نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے کہ 23 ستمبر کو منعقد کئے گئے انتخابات میں خودمختار الیکشن کمیشن نے دھاندلیاں کی تھیں، البتہ یہ بات ابھی واضح نہیں ہوئی ہے کہ آیا سپریم کورٹ بھی اس چیلنج والی درخواست کو قبول کرے گی۔ یاد رہے کہ مالدیپ کے انتخابات میں ابراہیم محمد صالح کو 58.4% ووٹس حاصل کرکے زبردست کامیابی ملی تھی۔ حالانکہ ابراہیم سیاسی حلقوں کی کوئی معروف شخصیت نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں اپوزیشن پارٹیوں کی زبردست تائید حاصل ہوئی جبکہ عبداللہ یامین کے تمام اہم حریف یا تو جیل میں ہیں یا جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ عبداللہ یامین نے اب تک انتخابی شکست قبول نہیں کی ہے اور عوام سے بھی کھلے عام یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ انتخابی نتائج کو چیلنج کریں۔ ملک کے دستور کے مطابق عبداللہ یامین 17 نومبر تک صدر کے عہدہ پر برقرار رہ سکتے ہیں اور اس کے بعد انہیں (اگر عدالت کی جانب سے کوئی دخل اندازی نہ ہوئی) اقتدار کی باگ ڈور ابراہیم محمد صالح کے حوالے کرنی پڑے گی۔