مائنمار فوج نے مزید 40 مسلم دیہاتوں کو جلادیا

سیٹلائٹ تصاویر سے حقائق کا انکشاف ! ہیومن رائٹس واچ
نائے پیائی تاؤ 19 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) انسانی حقوق کے نگران ادارہ ہیومن رائٹس واچ (ایچ آر ڈبلیو) نے خبر دی ہے کہ مائنمار میں فوجی کارروائیوں کے دوران روہنگیا مسلمانوں کے مزید 40 دیہاتوں کو نذر آتش کردیا گیا ہے۔ ان فوجی کارروائیوں کے نتیجہ میں تاحال 6,55,000 سے زائد روہنگیا مسلمان اپنی جان بچانے کے لئے اپنے گھر چھوڑ کر بے سرو سامانی کی حالت میں فرار ہوتے ہوئے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں پناہ گزینوں کی حیثیت سے کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ ایچ آر ڈبلیو نے مسلم دیہاتوں کو نذر آتش کرنے کے اکٹوبر اور نومبر کے دوران ریکارڈ کئے گئے سیٹلائیٹ امیجس کا استعمال کیا ہے۔ ان واقعات کے ساتھ 25 اگسٹ کو شروع کردہ فوجی کارروائی کے بعد سے تاحال جزوی طور پر تباہ شدہ مسلم دیہاتوں کی تعداد 354 ہوگئی ہے۔ سیٹلائیٹ سے لی گئی تصاویر کے بغور جائزہ سے اکٹوبر اور نومبر2017 ء کے دوران برما کی ریاست رکھائین میں روہنگیا مسلم گاؤں میں نئی تباہیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ایچ آر ڈبلیو نے اپنے بیان میں کہاکہ مسلم دیہاتوں کو نذر آتش کرنے کے بعض واقعات اُسی وقت پیش آئے جب بنگلہ دیش اور مائنمار کی حکومتیں 23 نومبر کو ایک یادداشت پر دستخط کررہی تھیں تاکہ سرحد عبور کرنے والے لاکھوں پناہ گزینوں کی واپسی کا آغاز کیا جاسکے۔ ایچ آر ڈبلیو کے ڈائرکٹر برائے ایشیاء بریڈ ایڈمس نے کہاکہ شمالی رکھائین میں روہنگیا دیہاتوں کو نذر آتش اور گھروں کو منہدم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ پناہ گزینوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کے لئے یادداشت پر دستخط سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ محض ’’تعلقات عامہ‘‘ کا ہتھکنڈہ ہے۔ ایڈمس نے کہاکہ ’’سیٹلائیٹ تصاویر وہ دکھارہی ہیں جس سے مائنمار فوج انکار کررہی ہے۔ روہنگیا گاؤں مسلسل جلائے جارہے ہیں۔ حکومت مائنمار جبکہ رونگیا پناہ گزینوں کی بحفاظت واپسی کو یقینی بنانے کا عہد کررہی ہے جس پر سنجیدگی سے یقین اور اعتبار نہیں کیا جاسکتا‘‘۔