لیبیا کے فوجی تصادم میں شدت ۔خلیفہ ہفتار کا طرابلس کے قریب فضائی حملہ

ملک میں خانہ جنگی کے اندیشے ۔ امن کو بحال کرنے بین الاقوامی برادری کی اپیلیں بے اثر ۔ فریقین کا ایک دوسرے کو شکست دینے کا عزم
طرابلس 7 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) لیبیا بھر میں فوجی تنازعہ میں شدت پیدا ہوگئی ہے اور یہاں کمانڈر خلیفہ ہفتار کی جانب سے طرابلس کے مضافات میں فضائی حملہ کیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی تائید والی حکومت نے جوابی کارروائی کا بھی انتباہ دیا ہے ۔ اس دوران اقوام متحدہ نے جنوبی مضافات میں دو گھنٹوں کی فوری جنگ بندی کی وکالت کی ہے تاکہ اس علاقہ سے عام شہریوںاور زخمیوں کا تخلیہ کروایا جاسکے ۔ لیبیا میں عالمی مسلمہ حکومت اور کمانڈر خلیفہ ہفتار کے گروپس کے مابین بڑھتی ہوئی گھمسان کی لڑائی کے نتیجہ میں ملک میں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہونے کے اندیشے ظاہر کئے جا رہے ہیں ۔ ہفتار نے جمعرات کو یہاں حملوں کا آغاز کیا تھا ۔ لیبیا میں ناٹو کی تائید والی عوامی مزاحمت کے آعاز کے بعد سے صورتحال انتہائی گہما گہمی والی ہے جبکہ وہاں کرنل معمر قذافی کو ہلاک کردیا گیا تھا ۔ یہاں بھی مخالف انتظامیہ اور مسلح گروپس اقتدار کیلے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔ ملک میں امن قائم کرنے کی مسلسل کوششیں ناکام ہوتی جا رہی ہیں۔ وادی ربا کے زرخیز علاقہ میں یہ جھڑپیں شدت کے ساتھ جاری ہیں اور یہاں جنوب میں بین الاقوامی ائرپورٹ بھی بند کردیا گیا ہے ۔ سرکاری افواج کے ایک ترجمان نے یہ بات بتائی اور کہا کہ ہفتار کی افواج کی پیشرفت کو روکنے کیلئے جوابی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ کرنل محمد غنونو نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برہمی کا آتش فشاں نامی آپریشن لیبیاء کے ناقدین اور جارحیت پسندوں کو روکنا ہے ۔ اس طرح انہوں نے کمانڈر ہفتار کی افواج کو روکنے کا اشارہ دیا ہے ۔ ہفتار کے گروپ نے اشارہ دیا ہے کہ اس نے طرابلس کے مضافات میں ایک فضائی حملہ کیا ہے حالاکہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے یہاں لڑائی کو روکنے اور امن قائم کرنے کی مسلسل اپیلیں کی جا رہی ہیں۔ جی این اے کے سربراہ فیض ال سراج نے انتباہ دیا ہے کہ یہ جنگ ایسی ہے جس میں کوئی کامیاب نہیں ہو رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طرابلس میں مزید کمک روانہ کی جا رہی ہے اور کئی علاقوں میں بھی تازہ دستے روانہ کئے جا رہے ہیں۔ ایک گروپ کے ترجمان خالد ابو جازیہ نے کہا کہ ہم اپنے دشمن کو طرابلس کی سمت ڈھکیلنے کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ دوران لیبیا کی قومی فوج نے دارالحکومت طرابلس کی مکمل ناکہ بندی کرلی۔شہر کے اطراف بیشتر اسٹراٹیجک پوائنٹس پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ انٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی اس کے کنٹرول میں آگیا۔لیبیا کی قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری نے اسکائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ آپریشن شاندار طریقے سے چل رہا ہے۔ ہم طرابلس کے جنوب اور جنوب مغربی محلوں میں داخل ہوچکے ہیں۔ زبردست جھڑپیں چل رہی ہیں۔ ملیشیا ام وادی الربیع روڈ کی بازیابی کیلئے کوشاں ہے۔ یہ انتہائی اہم روڈ ہے۔ قومی فوج اس وقت 7محاذوں پر آگے بڑھ رہی ہے۔المسماری نے بتایا کہ قومی سرکاری فوج طرابلس کے انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف متعدد اسٹراٹیجک مقامات پر اپنا کنٹرول بحال کرنے میں کامیاب ہوچکی ہے۔ دارالحکومت کے مغربی علاقے کے راستے نیزطرابلس کے جنوب مشرقی اور جنوبی علاقوں کو جوڑنے والی سڑکوں پر بھی ہمارا قبضہ ہوچکا ہے۔مغربی ریجن آپریشن روم کے کمانڈر کا کہناہے کہ طرابلس کے اطراف مسلح گروپوں کے ساتھ تال میل پیدا کرلیا گیا ہے۔ دہشتگرد القاعدہ اور الاخوان تنظیموں کے مقابلے کے لئے مسلح گروپ قومی فوج میں شمولیت کے اشارے کے منتظر ہیں۔وفاقی حکومت کے جنگی طیاروں نے سوق الخمیس اور جندوبہ میں لیبیا کی قومی فوج کے ٹھکانوں پر 4فضائی حملے کئے۔ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ طرابلس میں ملیشیائوں کی مدد کیلئے مسلح دہشتگرد گروپوں اور مصراتہ اور الزنتان شہروں نے کمک بھیج دی ہے۔