دولت مشترکہ کے 53 ممالک کے پرچموں میں شامل
ہندوستانی پرچم کو کسی شرپسند نے پھاڑ کر نیچے گرادیا
خالصتان ۔ حامی احتجاجیوں کا جارحانہ رویہ، اسکاٹ لینڈ
یارڈ نے ایک صحافی کو بچا لیا
لندن ۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ لندن کے دوران انہیں سخت احتجاج کا سامنا بھی کرنا پڑا کیونکہ احتجاجیوں نے اپنے ہاتھ میں پلے کارڈس تھام رکھے تھے جن پر ’’مودی واپس جاؤ‘‘ ، ’’دہشت گردی کا چہرہ ۔ مودی‘‘ جیسے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ ہندوستان میں اس وقت سلسلہ وار عصمت ریزی اور قتل کی وارداتوں پر نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ممالک میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے اور ایسے ہی واقعات کی روک تھام کیلئے جو احتجاجی مظاہرے کئے جارہے تھے وہ بدقسمتی سے تشدد کا اس وقت شکار ہوگئے جب دولت مشترکہ کے 53 ممالک کے پرچموں کے کھمبوں سے لہراتے ہوئے ہندوستانی پرچم کو کسی شرپسند نے پھاڑ کر نیچے گرادیا۔ نریندر مودی جو اس وقت برطانیہ کے دورہ پر ہیں جہاں وہ دورخی بات چیت کے علاوہ ہمہ رخی دولت مشترکہ سربراہان مملکت کے اجلاس ((CHOGM) میں بھی شرکت کرنے والے ہیں تاہم ان کی آمد خوشگوار ثابت نہیں ہوئی۔ ہندوستانی پرچم کو پھاڑ کر گرادیئے جانے کے واقعہ کے بعد بعض احتجاجی تشدد پر اتر آئے جو پارلیمنٹ اسکوائر پر کثیر تعداد میں موجود تھے۔ دریں اثناء ہندوستانی براڈکاسٹ میڈیا کے ایک مشہور چینل کی نمائندگی کرنے والے ایک سینئر صحافی کو خالصتان۔ حامی احتجاجیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا۔ مذکورہ صحافی اس وقت وہاں احتجاجی مظاہروں کے کوریج کیلئے آیا تھا۔
اس واقعہ کے فوری بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ڈیوٹی پر موجود افسران نے مداخلت کرتے ہوئے صحافی کو بچا لیا۔ اس واقعہ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ براڈکاسٹ چینل نے میٹرو پولیٹن پولیس میں شکایت درج کروانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ دوسری طرف وزیراعظم کے دورہ سے وابستہ ایک سینئر ہندوستانی عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے برطانیہ کے متعلقہ حکام کو اپنی شکایت پیش کردی ہے جس پر انہوں نے معذرت خواہی بھی کی ہے حالانکہ ہم نے انہیں انتباہ دیا تھا کہ خالصتان۔ حامی عناصر اسی نوعیت کی (تشدد) گڑبڑ پیدا کرسکتے ہیں جس پر متعلقہ حکام نے خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کرنے کا تیقن دیا تھا۔ پھٹے ہوئے ہندوستانی پرچم کو اب نئے پرچم سے بدل دیا گیا ہے۔ سکھ فیڈریشن کے اور نام نہاد مائناریٹیز اگنیسٹ مودی گروپ سے تعلق رکھن والے خالصتان ۔ حامی گروپس نے جس کی قیادت پاکستانی پیر لارڈ احمد کررہے تھے،
ان 500 احتجاجیوں میں شامل تھے جو پارلیمنٹ اسکوائر کے قریب جمع ہوگئے تھے جن میں کشمیری علحدگی پسندوں کا گروپ بھی شامل تھا۔ ایک موقع ایسا بھی آیا جب وہ تمام اپنے اپنے بیانرس اور پرچموں کے ساتھ مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے قریب جمع ہوگئے۔ دوسری طرف ایسے افسران جو وزیراعظم کے دورہ برطانیہ کی تیاریوں کے ذمہ دار ہیں، نے بتایا کہ احتجاج اور مظاہرے جمہوری سماج کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ تاہم یہ اسو قت تک قابل قبول اور قابل احترام ہیں جب تک مظاہرے پرامن ہوں۔ ایسا معلوم ہوتا ہیکہ بعض جارحیت پسند عناصر نے پرامن مظاہروں میں اتھل پتھل مچانے کیلئے ہی تشدد کا سہارا لیا۔ قبل ازیں جب نریندر مودی برطانوی وزیراعظم کی رہائش گاہ 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ میں بریک فاسٹ میٹنگ کیلئے پہنچے تو ساڑی میں ملبوس خواتین کے ایک گروپ نے ڈھول بجا بجا کر ان کا استقبال کیا تھا جو اس بات کی علامت تھا کہ خواتین کا گروپ مودی ۔ حامی ہے۔ اس گروپ کے ساتھ جلد ہی فرینڈس آف انڈیا سوسائٹی انٹرنیشنل (FISI) گروپ کے لوگ بھی شامل ہوگئے جو برطانیہ کے مختلف شہروں میں رہنے والے ہندوستانی تھے جنہوں نے اپنے ہاتھ میں جے ہند اور چک دے انڈیا جیسے بیانرس تھام رکھے تھے۔