نئی دہلی ، 28 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت نے آج لال قلعہ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری خانگی کمپنی ڈالمیا گروپ کے سپرد کرتے ہوئے ایک اور تنازعہ چھیڑ دیا ہے کیونکہ فوری طور پر اپوزیشن نے سخت ردعمل میں اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔ تاہم، حکومت نے وضاحت کی کہ اُس نے ڈالمیا بھارت لمیٹیڈ کے ساتھ دستخط شدہ یادداشت مفاہمت کے مطابق اُسے صرف ترقیاتی کاموں اور آپریشنس کی ذمہ داری سونپی ہے ۔ 17 ویں صدی کی یادگار کے تعلق سے حکومتی اقدام پر تمام اپوزیشن بشمول کانگریس، سی پی آئی (ایم) اور ٹی ایم سی نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے عملاً ہندوستان کی جشن آزادی تقاریب کے تاریخی مقام کی سکیورٹی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے۔ تاہم، حکومت کا ادعا ہے کہ 25 کروڑ روپئے والے ایم او یو صرف ڈیولپمنٹ، آپریشنس اور سیاحتی انتظامات سے متعلق ہے جو لال قلعہ کے اطراف و اکناف انجام دیئے جانے ہیں۔ کانگریس ترجمان رندیپ سرجے والا نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی ہندوستان کی آزادی کی علامت کو بھی گروی رکھنے کی تیاری کررہے ہیں، کیا مودی اور بی جے پی اس تاریخی عمارت ’’لال قلعہ‘‘ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ سی پی ایم نے کہا ہے کہ ملک کے ثقافتی ورثہ کی نجکاری نہیں ہونے دیا جانا چاہئے ۔پارٹی نے آج یہاں جاری بیان میں کہا کہ مودی حکومت نے ڈالمیا کے ساتھ ایک معاہدہ کرکے پانچ برسوں کے لئے لال قلعہ کو اس کے ہاتھوں سونپ دیا اور اب وہ اس کا کاروباری استعمال کر سکے گا۔دریں اثناء چیف منسٹر مغربی بنگال و ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے سوال کیا کہ کیا حکومت ہمارے تاریخی لال قلعہ کی بھی دیکھ بھال نہیں کرسکتی؟