قیدیوں کو جانوروں کی طرح نہیں رکھا جاسکتا : سپریم کورٹ

جیلوں میں گنجائش سے 600 فیصد زائد قیدیوں پر ریاستوں کو عدالت کی سرزنش

نئی دہلی۔ 31 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج ریاستی اور مرکزی زیرانتظام حکومتوں کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ قیدیوں کو جیل میں مناسب طریقے سے رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے تو وہ ان قیدیوں کو آزاد کردے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ قیدیوں کو جانوروں کی طرح جیل میں نہیں رکھا جاسکتا۔ واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ یہ سخت ریمارک اس وقت کیا جب عدالت کو یہ بتایا گیا کہ ملک بھر میں 1300 جیلوں میں قیدیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ کئی جیلوں میں مقررہ صلاحیت سے 600% زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے جسٹس مدن بی لوکر کی قیادت والی بینچ نے اگر قیدیوں کو صحیح طرح سے نہیں رکھا جاسکتا تو انہیں سدھارنے کے بات کیسے کی جاسکتی ہے۔ اگر انہیں صحیح طرح سے جیل میں نہیں رکھا جاسکتا تو انہیں چھوڑ دیا جانا چاہئے۔ سپریم کورٹ کو عدالتی مشیر نے بتایا کہ کئی اضلاع میں 150% سے زیادہ قیدی موجود ہیں اور ایک میں تو مقررہ تعداد سے 609% زیادہ قیدی موجود ہیں۔ اس پر جواب دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ریاستی حکومتیں اپنے فرائض کی تئیں انتہائی لاپرواہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی قیدیوں کو ضمانت مل چکی ہے لیکن مچلکہ ادا نہ کرنے کی وجہ سے وہ ابھی بھی جیل میں بند ہیں۔ عدالت نے ریاستی اور مرکزی زیرانتظام حکومتوں کے خلاف سخت ریمارک کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ عدالت نے تمام ریاستوں سے ڈی جیز کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر پچھلے حکم نامہ پر صحیح طریقے سے عمل آوری نہیں کی گئی تو ’’کنٹیپٹ نوٹس‘‘ جاری کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ عدالت نے اپنے پچھلے حکم نامہ میں ریاستی حکومتوں سے کہا تھا کہ وہ یہ بتائیں کہ قیدیوں کی جم غفیر سے نمٹنے کیلئے کیا ایکشن پلان ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ایک بار پھر حکومتوں کو یاد دلایا کہ قیدیوں کے بھی حقوق ہیں اور انہیں جانوروں کی طرح جیلوں میں بند کرکے نہیں رکھا جاسکتا ہے۔