آلات کے شعاؤں سے ذہنی نشوونما پر منفی اثر ، دماغ بھی متاثر ہوسکتا ہے ، رپورٹ میں انکشاف
حیدرآباد۔27جولائی (سیاست نیوز) اولاد کی ضد اہم ہے یا ان کی زندگی کے فیصلہ والدین اور سرپرستوں کو کرنا ہوگا کیونکہ اولاد کی ضد کے آگے بے بس ہوتے ہوئے والدین بچوں کو فون‘ ٹیاب اور کمپیوٹر پر وقت گذارنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں جو کہ ان کی زندگی کیلئے انتہائی خطرناک ہے ۔ سیل فون اور ٹیاب سے نکلنے والی شعائیں بچوں کی ذہنی نشو نما پر اثر انداز ہونے کے علاوہ انہیں مفلوج کرسکتی ہیں اور وہ ذہنی طور پر ماوف ہوسکتے ہیں اسی لئے بچوں کو سیل فون اور ٹیاب پر گیمس یا کسی اور شئے کیلئے وقت گذاری کا موقع فراہم کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آئی رپورٹ کے مطابق سیل فون سے نکلنے والی شعائیں بچوں کی صحت پر منفی اثرات پیدا کرتی ہیں اور ان کے دماغ ان شعاؤوں سے متاثر ہونے لگتے ہیں۔ آپ اپنے بچوں سے محبت کرتے ہیں اسی لئے بچوں کی ضد کو پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن بچوں کو سیل فون اور ٹیاب سے دور رکھنا دراصل ان سے محبت کرنا ہے کیونکہ انہیں فون حوالہ کرنا اور انہیں فون کے ساتھ کھیلنے کا موقع دینا ان کی زندگی سے کھلواڑ کے مترادف ہے۔ تحقیق کے مطابق بچوں کی نشونما میں ان کی ذہنی نشونما انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے اور اس کے لئے یہ ضروری ہوتا ہے انہیں قدرتی طور پر نشو نما کا موقع فراہم کیا جائے لیکن جب بچے موبائیل فون کے ذریعہ وقت گذارنے لگتے ہیں تو ان کے دماغ کا سیدھی جانب کا حصہ متاثر ہونے لگتا ہے جو کہ ان کی یادداشت کو کمزور کرنے کا سبب بنتا ہے۔وائر لیس آلات کے استعمال سے جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس کے سبب دماغ کی سیدھی جانب منفی اثرات پیدا ہونے لگتے ہیں اور ان منفی اثرات کے نتیجہ میں یادداشت کمزور ہونے لگتی ہے اور یادداشت کی کمزوری کے ساتھ ساتھ موبائیل فون پر گیمس‘ ٹیکسٹ میسیج‘ انٹرنیٹ کا استعمال دیگر کئی امراض کا سبب بھی بننے لگا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ فون کا استعمال کرنے سے بچوں کی ہی صحت متاثر ہوتی ہے بلکہ بڑوں اور نوجوانوں میں بھی فون کے کثرت سے استعمال کے سبب مختلف عوارض پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ فون کے استعمال سے ہونے والی بیماریوں کے منفی اثرات سے محفوظ رہنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کچھ حد تک ان سے بچا جا سکتا ہے ۔ فون کے استعمال کے دوران ہیڈ فون کا استعمال اور مختصر بات چیت کے ذریعہ موبائیل فون سے نکلنے والی شعاؤوں سے راست متاثر ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بچوں کو اسکرین کے سامنے زیادہ رہنے سے بھی روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسکرین سے جو شعائیں نکلتی ہیں وہ بھی ان کی ذہنی نشو نما کیلئے صحتمند نہیں ہیں ۔