خوفناک اور وحشیانہ واقعہ پر عوام میں دہشت ، ناکامی کو چھپانے پولیس کوشاں
حیدرآباد ۔ /26 ستمبر (سیاست نیوز) حیدرآباد کے مصروف ترین علاقہ عطاپور میں پیش آئے دل دہلادینے والے واقعہ میں ایک شخص کا دن دھاڑے قتل کردیا گیا ہے ۔ موقع واردات پر موجود پولیس عملہ خاموش تماشائی بنارہا ۔ تفصیلات کے بموجب 24 سالہ جے رمیش ساکن جمعرات بازار دھول پیٹ کو بعض افراد نے اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مقامی عدالت میں حاضری دینے کے بعد مکان واپس لوٹ رہا تھا ۔ ذرائع نے بتایا کہ مقتول ، رمیش نے گزشتہ سال ڈسمبر میں شمس آباد علاقہ میں مہیش گوڑ کا قتل کیا تھا اور اس کے خلاف راجندر نگر اپر پلی کورٹ میں مقدمہ زیرالتواء ہے ۔ رمیش گوڑ آج قتل کیس میں حاضری دینے کیلئے عدالت پہونچا تھا اور اس بات کی اطلاع ملنے پر مہیش کا باپ کرشنا گوڑ اور اس کا ایک رشتہ دار وہاں پہونچ گئے اور تعاقب کرنے لگے ۔ مہیش گوڑ کو عطا پور پلر نمبر 140 کے قریب تعاقب کرتے ہوئے کلہاڑی سے بے رحمانہ طور پر قتل کردیا ۔ مقام واردات پر موجود پولیس اس قتل کو روکنے میں ناکام رہی اور وہ بھی خاموش تماشائی بنے رہے جبکہ ایک نوجوان نے قاتل کو دھکا دے کر اسے روکنے کی کوشش کی ۔ قتل کی واردات مصروف ترین روڈ پر پیش آنے کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد نے اس خوفناک منظر کو راست طور پر دیکھا ۔ وہاں موجود افراد نے یہ قتل کے واقعہ کی اپنے موبائیل کے ذریعہ ویڈیو گرافی کی اور واردات کے اندرون چند منٹ سوشیل میڈیا پر وائرل ہوگیا ۔ قتل کے بعد وہاں موجود پولیس عملہ نے ملزمین کو اپنی تحویل میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ خاطی کرشنا گوڑ دماغی مریض ہے اور وہ گزشتہ تین سال سے ایرہ گڈہ مینٹل ہاسپٹل میں علاج کروارہا ہے ۔ پولیس نے اپنی ناکامی کو چھپانے کیلئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہاں موجود ٹریفک پولیس کانسٹبل لنگامورتی نے قتل کو روکنے کی کوشش کی اور دیگر پولیس عملہ نے بھی ملزمین کو بروقت حراست میں لے لیا ۔ جبکہ عوام یہ صاف طور پر دیکھا ہے کہ پولیس محض خاموش تماشائی بنی رہی اور خاطی کو روکنے کی ہمت نہیں کی ۔ ڈپٹی کمشنر پولیس شمس آباد مسٹر پرکاش ریڈی نے پولیس کی ناکامی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک ٹریفک کانسٹبل نے اس واردات کو روکنے کی ہرممکن کوشش کی ۔