عصمت دری سے مزاحمت کرنے پر زدو کوب ، ۹؍ درندہ صفت آدمیوں گرفتار کرلیاگیا 

پٹنہ : نو آدمی بشمول ایک نابالغ پولیس نے آج انہیں گرفتار کرلیا ہے۔ ان پرایک اسکول کے ۴۰؍ لڑکیوں کے زد وکوب کرنے کا الزام ہے ۔ ان لڑکیوں کو عصمت ریزی سے مزاحمت کرنے پر انہیں مقامی چند شر پسندوں نے انہیں مارا پیٹا ہے۔ یہ واقعہ بہار کے سیپول ضلع میں پیش آیا ۔ ذرائع کے مطابق یہ لوگ اسکول کی دیواروں پر ان لڑکیوں کے بارے غیر اخلاقی تبصرے لکھے ہیں ۔

اطلاعات کے مطابق کچھ شرپسند اس اسکول میں زبر دستی گھس آئے اور ان کی لڑکیوں کی عصمت دری کی کوشش کرنے لگے ۔ لیکن لڑکیوں کے چیخ و پکار پر ان لوگوں نے انہیں مارنا پیٹنا شروع کردیا۔ اور ان پر گندے فقرے کسنے لگے ۔ اسکول انتظامیہ نے بتایا کہ یہ لڑکیاں اسکول میں کھیل رہی تھیں ۔

اسی دوران چند مقامی لوگوں نے اسکول میں زبر دستی گھس آئے او را ن لڑکیوں کے ساتھ نازیبا سلوک کرنے لگے ۔تب ہی ان لڑکیوں نے چیخ وپکار کرنے شروع کردیا جس سے یہ لوگ غضبناک ہوگئے ۔اور ان لڑکیوں کو مارنے پیٹنے لگے ۔ او ریہ ان کا روز کا معمول بن گیا ہے ۔‘‘ پولیس نے بتایا کہ ان تما م لڑکیوں کو طبی معائنوں کے لئے دواخانہ منتقل کیاگیا ہے ۔ پولیس کے مطابق ان لڑکیوں کے عمریں ۱۲؍ سال سے ۱۶؍ تک کے درمیان ہیں۔

اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے ریاستی حکومت پرالزام لگاتے ہوئے کہا کہ نتیش کمار کی حکومت لڑکیوں کے تحفظ میں ناکام ہوگئیں ہیں ۔