ممبئی ائرپورٹ پر ہتک کے بعد والد شفیق احمد خاندان کے کسی فرد کو پائلٹ بنانا چاہتے تھے
حیدرآباد 26 جولائی ( سیاست نیوز ) عالیہ تبسم مالیگاوں کی پہلی کمرشیل پائلٹ بننے جا رہی ہیں ۔ وہ شفیق احمد کی دختر ہیں جو پیشے سے بافندہ ہیں۔ عالیہ نے اپنی اسکولی تعلیم ارم پرائمری اسکول اور مالیگاوں گرلز ہائی اسکول سے سائنس کے مضمون میں پوری کی ۔ وہ بچپن ہی سے پائلٹ بنناچاہتی تھیں ۔ ابتداء میں انہوںنے اپنی ہوابازی کی تربیت مدھیہ پردیش فلائنگ کلب سے پوری کی جہاں انہیں اسٹوڈنٹ پائلٹ کا لائسنس جاریہ سال جون میں حاصل ہوا ۔ وہ فی الحال دہلی میں ساحل کھرانہ ہوابازی اکیڈیمی میں اپنی ٹریننگ مکمل کر رہی ہیںتاکہ کمرشیل پائلٹ بن سکیں۔ انہیں اب تک 02,04,06 اور 08 نشستی طیاروں کی ٹریننگ مل چکی ہے ۔ اگر وہ اپنی تربیت مکمل کرلیتی ہیں تو وہ مالیگاوں کی پہلی کمرشیل پائلٹ ہونگی ۔ جاریہ سال نومبر میں انہوں نے اپنا پہلا سیمسٹر امتحان مکمل کرلیا تھا اور فی الحال وہ اپنے فائنل امتحان کی تیاری کر رہی ہیں جو امکان ہے کہ نومبر 2018 میں منعقد ہوگا ۔ ان کے پائلٹ بننے کی وجہ ان کے والد ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے والد کی کسی موقع پر ممبئی ائرپورٹ پر ہتک کی گئی تھی جس کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان میں کسی کو پائلٹ بننا چاہئے ۔ عالیہ کے والد شفیق نے بتایا کہ وہ 2005 میں اپنی اہلیہ کے ساتھ حج کو جارہے تھے ۔ اتفاق سے وہ ممبئی ائرپورٹ تاخیر سے پہونچے اس لئے انہیں طیارہ میں سوار ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ اسٹاف نے انہیں بورڈنگ سے روک دیا ۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے ہوئی کہ ہمارے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئے تھے حالانکہ ہم حج کو جارہے تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے ۔ اچانک ہی انہوں نے ایک پائلٹ کو دیکھا جو عملہ کے ارکان کے ساتھ تھا ۔ پائلٹ نے انہیں دیکھا اور امیگریشن اسٹاف کو ہمارا کلئیرنس کرنے کو کہا ۔ انہیں خوشی تھی کہ وہ ایک پائلٹ کی مدد سے سفر حج پر جاسکے۔ دوران پرواز پائلٹ نے انہیں کاک پٹ میں بھی طلب کیا جس سے وہ بہت متاثر ہوئے اور ایک سے زائد بار پائلٹ کو گلے لگاکر ان سے اظہار تشکر کیا تھا ۔ اسی وقت انہوں نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے خاندان میں کسی کو پائلٹ بننا چاہئے ۔