طوفان تتلی اڈیشہ کے ساحل سے ٹکرا گیا

تین لاکھ افراد کا تخلیہ، اڈیشہ اور ساحلی آندھرا میں سخت چوکسی
بھوبنیشور ۔ 10 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) خلیج بنگال میں طوفان ’’تتلی‘‘ آج انتہائی شدت کے ساتھ بھنور کی شکل اختیار کرگیا ، جس کے پیش نظر حکومت اڈیشہ نے تین لاکھ افراد کا تخلیہ کردیا ہے۔ چیف منسٹر نوین پٹنائک نے اس صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا۔ گنجام، پوری، کھردہ، کیندرا پاڑہ اور جگت سنگھپور اضلاع کے کلکٹرس کو ساحلی پٹی کے تمام نشیبی علاقوں سے فی الفور انخلاء کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف سکریٹری اے پی پادھی نے کہا کہ گنجام کے ضلع انتظامیہ نے گوپال پورہ سے پہلے ہی عوام کا تخلیہ کروادیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تاحال 1000 افراد کا انخلاء عمل میں لایا جاچکا ہے۔ چیف سکریٹری نے کہا کہ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس اور اڈیشہ ڈیزاسٹر ریاپڈ ایکشن فورس کے اہلکار پہلے ہی تمام مخدوش ضلعوں میں مورچے سنبھال لئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ ’’ہم نے تاحال فوج کی مدد طلب نہیں کی ہے اور اگر ضروری ہو تو ہم یہ بھی کریں گے‘‘۔ چیف منسٹر پٹنائک نے جمعرات اور جمعہ کو تمام تعلیمی اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔ نیز متاثرین کیلئے پناہ گزین کیمپوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات نے پیش قیاسی کی ہیکہ گذشتہ چھ گھنٹوں سے 15 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آگے بڑھنے والا طوفان ’’تتلی‘‘ جمعرات کی صبح گوپال پور اور کالنکا پٹنم کے درمیان اڈیشہ اور متصلہ شمالی آندھراپردیش اور تلنگانہ کے کئی مقامات پر آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ ماہی گیروں کو ساحل سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔
انہیں اس سال مارچ میں ہلال امتیاز اعزاز دیا گیا تھا۔