ملک بھر سے 765 مندوبین کی شرکت ۔ کانگریس سے اتحاد کے مسئلہ پر تفصیلی غور و خوض ہوگا
حیدرآباد 17 اپریل ( پی ٹی آئی ) سی پی ایم کی پانچ روزہ کانگریس کا کل یہاں آغاز ہونے والا ہے اور امکان ہے کہ پارٹی کی اعلی ترین پالیسی ساز ادارہ میں دو گروپس ایک دوسرے پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرینگے ۔ ایک گروپ بی جے پی سے مقابلہ کیلئے کانگریس سے مفاہمت کی تائید کر رہا ہے تو دوسرا گروپ اس کا مخالف ہے ۔ پارٹی ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ کہا گیا ہے کہ پانچ روزہ سی پی ایم کانگریس میں ملک بھر سے 765 مندوبین شرکت کرر ہے ہیں۔ اس میں بائیں بازو کی جماعت اپنی سیاسی سمت کا تعین کریگی ۔ خاص طور پر اس حال میں جبکہ حالیہ برسوں میں پارٹی کی سیاسی کامیابیاں متاثر ہوتی جا رہی ہیں اور حال میں اسے اس کے گڑھ سمجھی جانے والی ریاست تریپورہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اب جبکہ آئندہ عام انتخابات کیلئے ایک سال کا ہی وقت رہ گیا ہے پارٹی کانگریس کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ یہاں جو کوئی فیصلہ کیا جائیگا وہ آئندہ انتخابات میں پارٹی کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی بنیاد ہوگا ۔ پارٹی کو 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں صرف نو لوک سبھا حلقوں سے کامیابی مل سکی تھی ۔ ایک پارٹی لیڈر نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پارٹی کانگریس اعلی ترین پالیسی ساز ادارہ ہے اور اس میں پارٹی کی مستقبل کی سیاسی حکمت عملی پر مباحث اور فیصلے کئے جائیں گے ۔ کانگریس میں زیادہ تبادلہ خْال اس بات پر ہوگا کہ آیا کانگریس کے ساتھ آئندہ انتخابات میں مفاہمت ہونی چاہئے یا نہیں۔ کانگریس میں منظور کی جانے والی سیاسی قرار داد کو اہمیت حاصل رہے گی ۔ پارٹی ذرائع نے کہا کہ سیاسی قرار داد کے مسودہ پر تقریبا 8000 ترامیم موصول ہوئی ہیں اور اس قرار داد پر کانگریس کے دوران رائے دہی ہوگی ۔ ذرائع کے بموجب تمام سکیولر و جمہوری طاقتوں سے اتحاد پر کانگریس میں غور ہوگا ۔