سیاست کے رپورٹر مبشرالدین خرم مجلس کے حملہ میں زخمی

جان سے مار دینے صدر مجلس کے حواریوں کی دھمکی، پولیس میں شکایت
حیدرآباد 2 فروری (سیاست نیوز) پرانے شہر میں سیاسی تبدیلی اور عوامی رجحانات کو منظر عام پر لانے والے ایک سینئر صحافی پر حملہ کا سنگین واقعہ پیش آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ روزنامہ سیاست سے وابستہ سینئر صحافی محمد مبشرالدین خرم رائے دہی کے دن پرانے شہر میں خدمات انجام دے رہے تھے کہ انھیں حیدرآباد رکن پارلیمنٹ اسد اویسی اور ان کے حامیوں نے حملہ کا نشانہ بنایا اور انھیں حملہ میں بُری طرح زخمی کردیا۔ مبشرالدین خرم کا شہر کے ایک خانگی ہاسپٹل میں علاج جاری ہے۔ مقامی جماعت کے قائدین اور کارکنوں نے مبشرالدین خرم پر ماضی میں بھی حملہ کیا تھا اور آزادانہ صحافت اور اس بے باک صحافی کو روکنے کی کوشش کی تھی۔ مبشرالدین خرم پر حملہ کی اطلاع کے ساتھ ہی صحافیوں اور سماجی تنظیموں کے قائدین کی کثیر تعداد پولیس اسٹیشن میرچوک پر جمع ہوگئی اور صحافی مبشرالدین خرم پر حملہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ صحافیوں کی کثیر تعداد جن میں جرنلسٹ یونین کے قائدین، الیکٹرانک میڈیا، اولڈ سٹی، الیکٹرانک میڈیا اسوسی ایشن بھی شامل تھے، پولیس کے رویہ پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔ بعدازاں مبشرالدین خرم کی شکایت کو پولیس میرچوک نے قبول کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ جرنلسٹ یونین اور صحافتی برادری نے مبشرالدین خرم اور ان کے افراد خاندان کو لاحق خطرات سے ان کے تحفظ کے لئے اقدامات پر زور دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ جب خرم اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے ان کا گزر چھتہ بازار علاقہ سے ہوا، اسی دوران حیدرآباد رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کے حواریوں کی ٹولی نے جس میں درجنوں کارکن تھے، یہ حملہ کیا۔ اسد اویسی پر الزام ہے کہ اس نے اپنے حواریوں کو اشارہ کرتے ہوئے خرم پر حملہ کروایا اور سیاست کے صحافی کو بڑی بے رحمی سے ٹولی نے زدوکوب کیا اور انھیں جان سے مار دینے کی دھمکی دی گئی اور افراد خاندان کو بھی انتباہ دیا۔ مبشر الدین خرم اس حملہ میں شدید زخمی ہوگئے۔ جن کا خانگی ہاسپٹل میں علاج جاری ہے۔ ان کے پیر میں فریکچر آیا ہے اور وہ بُری طرح زخمی ہیں۔ صحافتی برادری نے خاطیوں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بصورت احتجاج میں شدت پیدا کرنے کا انتباہ دیا۔