برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر
محمد علی شبیر پر گھونسوںاور لاتوں کی بارش ۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے فرزند کو طمانچے ۔ امجد اللہ خاں خالد پر مکے برسائے گئے
حیدرآباد 2 فروری (سیاست نیوز) جی ایچ ایم سی کے منعقدہ انتخابات کیلئے آج رائے دہی کے دوران پرانا شہر کے بعض علاقوں میں جنگل راج جیسی صورتحال دیکھی گئی ۔ جہاں یہ افسوسناک اور حیرت انگیز حقیقت بھی منظر عام پر آئی کہ مسلمانوں میں اتحاد اور مسلمانوں کے تحفظ و سلامتی کی دہائی دیتے ہوئے ووٹ مانگنے والی جماعت کے قائد کی قیادت میں کئی امیدواروں پر حملے کئے گئے جو تمام (امیدوار) مسلم ہی تھے۔ حتیٰ کہ حکمراں جماعت کے ایک سرکردہ قائد اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کے فرزند کو نام نہاد مسلم جماعت کے حواریوں نے گھر سے باہر نکال کر بری طرح زد و کوب کیا۔ حلقہ اکبر باغ کے ایم بی ٹی امیدوار امجد اللہ خان خالد پر ملک پیٹ کے رکن اسمبلی نے حملہ کیا ۔ حلقہ اعظم پورہ میں مسلم جماعت کے ایک کارکن نے ایک اور امیدوار شمیم بیگم سے بدسلوکی کرکے ان کے شوہر اسلم بن علی (پٹو بھائی) کو زد و کوب کیا۔ میر چوک میں جماعت کے حواریوں نے قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر پر حملہ کرتے ہوئے انہیں بری طرح زخمی کردیا ۔ گھانسی بازار میں کانگریس کے امیدوار محمد غوث سے بحث و تکرار کی گئی ، انہیں اپنے اثر و رسوخ سے پولیس کی تحویل میں دیدیا ۔ دیگر کئی حلقوں میں بھی اس قسم کے واقعات پیش آئے ۔
بوکھلاہٹ زدہ مسلم قیادت کی غنڈہ گردی پر شہریان حیدرآباد بالخصوص پرانا شہر کے مسلمانوں میں برہمی پیدا ہوگئی ہے۔رائے دہی کے موقع پر پرانے شہر میں بحیثیت مجموعی غنڈہ گردی کا ننگا ناچ دیکھا گیا۔ انتخابی جمہوریت اور آزادانہ و منصفانہ رائے دہی کے الیکشن کمیشن کے دعوے کھوکھلے ثابت ہوئے۔ مقامی جماعت مجلس نے پولیس اور نظم و نسق کی ملی بھگت سے نہ صرف بڑے پیمانے پر دھاندلیوں کا ارتکاب کیا بلکہ سیاسی حریفوں کو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ پرانے شہر کے کئی بلدی حلقوں میں شکست کے خوف سے مجلس کے قائدین بوکھلاہٹ کا شکار تھے اور انہوں نے دوپہر کے بعد عملاً پرانے شہر کے کئی علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا اور پولیس انہیں روکنے کے بجائے خاموش تماشائی بلکہ انہیں تحفظ فراہم کرتی دیکھی گئی۔ کئی بلدی وارڈز میں کانگریس، ٹی آر ایس، مجلس بچاؤ تحریک اور دیگر امیدواروں کے حق میں بہتر رائے دہی کو دیکھتے ہوئے مجلسی قیادت نے اچانک روایتی غنڈہ گردی اور دھاندلیوں کا آغاز کردیا۔ پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں نہ صرف امیدواروں پر حملے کئے گئے بلکہ میر چوک پولیس اسٹیشن کے روبرو بھاری پولیس جمعیت کی موجودگی میں صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی اتم کمار ریڈی اور قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر پر حملہ کیا گیا۔ رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اسد اویسی کی قیادت میں بے قابو شرپسندوں کے ہجوم نے کانگریس قائدین کی گاڑی پر حملہ کردیا۔ اس حملہ میں اتم کمار ریڈی اور محمد علی شبیر معمولی طور پر زخمی ہوگئے۔
مجلس سے وابستہ غنڈہ عناصر نے اعظم پورہ میں ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کی قیامگاہ پر حملہ کیا اور ان کے فرزند اعظم علی کو مار پیٹ کی۔ اطلاعات کے مطابق رکن اسمبلی احمد بلعلہ کی قیادت میں یہ کارروائی کی گئی اور ڈپٹی چیف منسٹر کے ساتھ بھی مبینہ طور پر بدسلوکی کی گئی۔ مجلس بچاؤ تحریک کے قائد اور اکبر باغ کے امیدوار امجد اللہ خاں خالد پر بھی حملہ کرکے زخمی کردیا گیا اور وہ دواخانہ میں شریک ہیں۔ امجد اللہ خالد نے کہا کہ انہیں بندوق کی بٹ سے نشانہ بنایا گیا ۔ پرانے شہر میں صبح سے ماحول بظاہر پُرامن تھا لیکن مجلسی قیادت کی بوکھلاہٹ اس وقت منظر عام پر آگئی جب پرانا پل اور گھانسی بازار بلدی حلقوں میں کانگریس کے حق میں رائے دہی جاری تھی، مقامی رکن اسمبلی احمد پاشاہ قادری نے کئی مقامات پر رائے دہی میں مداخلت کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس پر بوکھلاہٹ کا شکار قیادت نے کانگریسی امیدوار محمد غوث پر حملہ کردیا۔ مجلس اور کانگریسی امیدوار محمد غوث کے حامیوں میں جھڑپ کے بعد پولیس نے محمد غوث اور احمد پاشاہ قادری کو حراست میں لے لیا۔
محمد غوث کو میر چوک پولیس اسٹیشن منتقل کردیا گیا۔ اس واقعہ کے ساتھ ہی پرانے شہر میں رکن پارلیمنٹ حیدرآباد اور ان کے ارکان اسمبلی اپنے حامیوں کی کثیر تعداد کے ساتھ آزادانہ طور پر گھومتے ہوئے پولنگ بوتھس میں یکطرفہ رائے دہی کی مہم چلارہے تھے۔ اگرچہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت عوامی نمائندوں کو آزادانہ طور پر گھومنے کا حق نہیں ہے لیکن مجلسی عوامی نمائندوں کو پولیس اور انتخابی عملے نے کھلی چھوٹ دے رکھی تھی، وہ نہ صرف حامیوں کے ساتھ جلوس کی شکل میں گھوم رہے تھے بلکہ پولنگ بوتھس میں داخل ہوکر مخالف جماعتوں کے ایجنٹوں کو دھمکارہے تھے۔ اپوزیشن اور خود ٹی آر ایس امیدواروں اور عوام نے مجلسی قائدین کے رویہ کے خلاف الیکشن کمیشن کے مبصرین سے شکایت بھی کی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ صورتحال اس وقت بگڑ گئی جب صدر پردیش کانگریس تلنگانہ اتم کمار ریڈی اور محمد علی شبیر دیگر کانگریسی قائدین کے ساتھ میرچوک پولیس اسٹیشن پہنچے اور محمد غوث کی گرفتاری پر احتجاج کیا۔ ڈی سی پی ساؤتھ زون ستیہ نارائنا نے کانگریس قائدین سے بات کی اور محمد غوث کو رہا کردیا۔ جیسے ہی کانگریسی امیدوار پولیس اسٹیشن سے روانہ ہوئے کانگریس قائدین بھی روانگی کی تیاری کررہے تھے کہ اچانک اسد اویسی حامیوں کی کثیر تعداد کے ساتھ وہاں پہنچ گئے اور برہمی کے عالم میں اتم کمار ریڈی کی گاڑی کو روک دیا، پھر کیا تھا مجلسی غنڈہ عناصر نے یکایک گاڑی پر حملہ کردیا اور آئینوں کو نقصان پہنچایا۔ گاڑی کی دوسری جانب سے محمد علی شبیر پر حملہ کیا گیا اور ان پر مسلسل وار کئے گئے جس سے ان کی آنکھ زخمی ہوگئی۔ پولیس نے لاٹھی چارج کرکے حملہ آوروں کو منتشر کیا اور کانگریسی قائدین کو پولیس کی نگرانی میں روانہ کردیا گیا۔ رائے دہی کے آخری دو گھنٹوں میں ایسا محسوس ہورہا تھا
جیسے حکومت اور نظم و نسق نے مقامی جماعت کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے تاکہ وہ اپنی من مانی کے ذریعہ بوگس رائے دہی کرسکے۔ ٹی آر ایس اگرچہ مجلس کی حلیف جماعت ہے جس کا اعلان خود چیف منسٹر نے کیا لیکن اسی پارٹی اور حکومت کے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی بھی مجلس کی غنڈہ گردی سے بچ نہیں سکے۔ ملک پیٹ رکن اسمبلی نے حامیوں کے ساتھ ڈپٹی چیف منسٹر کی قیامگاہ میں داخل ہوکر ان کے فرزند کو مار پیٹ کی جس کے بعد ٹی آر ایس کارکنوں نے احتجاجی دھرنا منظم کیا۔ واقعہ کے فوری بعد وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے ڈپٹی چیف منسٹر کی قیامگاہ پہنچ کر ان سے ملاقات کی۔ ملک پیٹ کے علاقہ میں مجلس کے رکن اسمبلی نے مجلس بچاؤ تحریک کے امیدوار امجد اللہ خاں خالد پر حملہ کردیا جس سے وہ زخمی ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس علاقہ میں مجلس بچاؤ تحریک کے حق میں رائے دہی کے رجحان کو دیکھتے ہوئے انہیں نشانہ بنایا گیا تاکہ رائے دہی متاثر کی جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ دبیر پورہ، للیتا باغ، پرانا پل، اولڈ ملک پیٹ، جنگم میٹ، بارکس، گھانسی بازاراور بعض دیگر بلدی وارڈز میں مخالف امیدواروں کو دھمکانے کی شکایات ملی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ ٹی آر ایس قائدین نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے مجلسی قائدین کو کھلی چھوٹ دے رکھی تھی ۔رائے دہی کے آخری 3 گھنٹوں میں مقامی جماعت کی جانب سے کئی پولنگ بوتھس پر دھاندلیوں کی شکایات ملی ہیں۔ کسی بھی واقعہ پر وہاں موجود پولیس کارروائی کرنے کے بجائے مقامی جماعت کے مخالفین کو ہی وہاں سے روانہ ہونے پر مجبور کررہی تھی۔