سری نگر 27ستمبر (سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے سری نگر کے نور باغ قمرواری میں ایک شہری کو ہلاک کئے جانے ، (بقول مزاحمتی قیادت) بلدیاتی و پنچایتی انتخابات کو بنیاد بناکر درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کرنے اور وادی کے طول و ارض میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کے نام پر لوگوں کو ہراساں کرنے کے خلاف 28 ستمبر (جمعہ کے روز) پورے جموں وکشمیر میں ہمہ گیر ہڑتال کی کال دے دی ہے ۔ میرواعظ عمر فاروق نے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے دو سلسلہ وار ٹویٹس میں کہا ‘نہتے شہری محمد سلیم ملک کوا پنے ہی گھر میں فورسزکے ہاتھوں شہید کئے جانے ،نام نہاد انتخابات کو بنیاد بنا کر حریت پسند قائدین اور کارکنوں کی گرفتاریاں اور وادی کے طول و ارض میں کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کی آڑ میں فوجی آپریشن کے خلاف مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے جمعتہ المبارک 28ستمبر کو ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال رہے گی اور بھارتی جارحیت کے خلاف نماز جمعہ کے بعد پورے کشمیر میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔اس دوران مزاحمتی قیادت کے ایک بیان میں حکمرانوں کی جانب سے بقول ان کے جموں وکشمیر میں نہتے عوام کے خلاف اختیار کی گئی مبینہ جارحانہ اور نسل کشی سے عبارت پالیسیوں، پائین شہر میں ایک نہتے شہری محمد سلیم ملک کو اپنے ہی گھر میں ٹارگٹ کلنگ کے ذریعے جاں بحق کئے جانے ، انتخابات کو بنیاد بناکر درجنوں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو پابند سلاسل کرنے اور وادی کے طول و ارض میں شہر و گام قتل و غارت گری، عوام کو زدو کوب کرنے اور کارڈن اینڈ سرچ آپریشنز کی آڑ میں فوجی آپریشن کے ذریعہ نوجوانوں کو جاں بحق کرنے کو استعماریت کے مذموم حربے قرار دیتے ہوئے ان واقعات کے خلاف جمعتہ المبارک 28 ستمبر کو پورے جموں وکشمیر میں ہمہ گیر احتجاجی ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایک طرف انتخابات کا ڈرامہ جو ہمیشہ سے کشمیر میں ایک فوجی آپریشن کے سوا کچھ نہیں رہا ہے کی آڑ میں حریت پسند قائدین اور کارکنوں کو گرفتار کرکے پابند سلاسل بنایا جارہا ہے اور ان کے لئے جیل خانوں اور عقوبت خانوں کے دروازے کھول دیے گئے ہیں تو دوسری طرف یہاں کے نہتے عوام کو براہ راست فائرنگ کے ذریعے شہادت کے منصب پر فائز کیا جارہا ہے ۔