سانجھی رام نے بیٹے کو بچانے کٹھوعہ کیس کی لڑکی کا قتل کیا

بکروال لڑکی کو اغواء کے وقت ریپ و قتل کا منصوبہ نہیں تھا۔ تحقیقات کاروں کا ملزم سانجھی سے تفتیش کے بعد انکشاف
جموں ،28 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) پولیس جو کٹھوعہ میں پیش آئے 8 سالہ لڑکی کے ریپ اور قتل کے معاملہ میں تحقیقات کررہی ہے، اُس کا کہنا ہے کہ کلیدی ملزم میں شامل سانجھی رام نے تفتیش کے دوران اُنھیں بتایا کہ لڑکی کا اغواء ہونے کے چار روز بعد اُن کو عصمت دری کا علم ہوا اور اُنھوں نے لڑکی کو ہلاک کردینے کا فیصلہ کیا کیوں کہ اُن کا بیٹا بھی جنسی حملے میں ملوث ہوگیا تھا۔ تحقیقات کاروں کا کہنا ہے کہ لڑکی جسے 10 جنوری کو اغواء کیا گیا اُس کا پہلے اسی روز ساندھی کے بھانجے نے ریپ کیا جو ابھی نابالغ ہے۔ بعد میں 14 جنوری کو لڑکی کو ہلاک کرکے اُس کی نعش 17 جنوری کو جنگل میں پھینک دی گئی۔ اُس نابالغ ملزم کے ساتھ سانجھی اور اُس کا بیٹا وشال اور 5 دیگر افراد اِس کیس میں ملزمین بنایا گیا ہے، جس نے ملک کو متزلزل کردیا اور حکومت آرڈیننس جاری کرنے پر مجبور ہوئی جس کے ذریعہ 12 سال سے کم عمر کے بچوں کے ریپ پر سزائے موت لازم قرار دے دی گئی ہے۔ تحقیقات کاروں نے نیوز ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ مسلم بکروال کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو ایک چھوٹی مندر ’دیوستھان‘ میں رکھا گیا جس کا سانجھی نگران ہے۔ اغواء کا ابتدائی مقصد خانہ بدوش گجر اور بکروال برادریوں کو ہندو اکثریتی علاقہ سے خائف کرکے وہاں سے ڈرا دھمکاکر بھگانا تھا۔ سانجھی کے وکیل انکور شرما نے اِس کیس سے متعلق واقعات پر تحقیقات کاروں کے بیان پر تبصرے سے انکار کرتے ہوئے کہاکہ اُن کے لئے دفاع کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کرنا مناسب نہ ہوگا۔ کم از کم وکیل صفائی کو کیس کے محاسن کے بارے میں تبصرہ نہیں کرنا چاہئے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے وکیل صفائی کے طور پر آپ کا اپنی حکمت عملی کا افشاء کردینا۔ سانجھی کا دعویٰ ہے کہ اُسے جنسی حملے کے بارے میں 13 جنوری کو ہی معلوم ہوسکا جب اُس کے بھانجے نے اِس بات کا اعتراف کیا۔ اُس نے تحقیقات کاروں کو بتایا کہ وہ دیوستھان کو پوجا کے لئے گیا تھا اور اپنے بھانجے سے کہا تھا کہ وہاں سے پرساد لے کر گھر جائے لیکن بھانجے نے اِس کام میں دیری کردی اور برہمی میں سانجھی نے اُس کی پٹائی کی۔ تاہم بھانجے نے قیاس کیاکہ اُس کے انکل کو شائد پتہ چل چکا ہے کہ اُس نے لڑکی کا ریپ کردیا ہے اور اس طرح اُس نے قبول جرم کرلیا۔ تحقیقات کاروں کا دعویٰ ہے کہ کم عمر بھانجے نے اپنے کزن وشال کو بھی شریک جرم بتاتے ہوئے کہاکہ اُن دونوں نے دیوستھان کے اندرون لڑکی کا ریپ کیا۔ تب سانجھی نے فیصلہ کیاکہ لڑکی کو قتل کردینا ضروری ہے تاکہ بنجاروں کو ڈرا دھمکاکر بھگانے کے اصل مقصد میں کامیابی حاصل ہوسکے۔ اِس کیس کی چارج شیٹ میں یہ تمام باتیں درج کی گئی ہیں اور تحقیقات کاروں کے مطابق سانجھی نے اپنے بھانجے کو ترغیب بھی دی کہ جرم کا اعتراف کرلے۔