رافائیل معاہدے پر سی اے جی رپورٹ میں لڑاکو جہاز کی قیمت کو شامل نہیں کیاگیا ۔ ذرائع

نجی ذرائع نے کہاکہ رپورٹ میں انڈین ائیر فورس( ائی اے ایف) کی جانب سے گیارہ الزامات لگائے گئے ہیں۔سی اے جی رپورٹ کا ایک حصہ فرانس سے 36رافائیل لڑاکوتیاروں کی خریدی بھی ہے

نئی دہلی۔ انڈیا ٹوڈے ٹی سے سی اے جی میں شامل ذرائع نے کہا ہے کہ رافائیل معاہدے کے ضمن میں سی اے جی کی مذکورہ رپورٹ جو پیر کے روز پارلیمنٹ میں رکھی گئی ہے کہ اس میں لڑاکو ہوائی جہاز کی قیمت کا ذکر نہیں کیاگیا ہے۔

نجی ذرائع نے کہاکہ رپورٹ میں انڈین ائیر فورس( ائی اے ایف) کی جانب سے گیارہ الزامات لگائے گئے ہیں۔سی اے جی رپورٹ کا ایک حصہ فرانس سے 36رافائیل لڑاکوتیاروں کی خریدی بھی ہے۔

رافائیل ہوائی جہاز کی قیمت کے متعلق تفصیلا ت اس لئے بھی اہمیت کی حامل ہوگئی ہیں کیونکہ کانگریس اور نریند رمودی کی حکومت دونوں اس مسلئے پر ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔

کانگریس کے الزام ہے کہ مودی حکومت نے قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے معاہدے پر دستخط کی ہے۔ وزیر اعظم نریند ر مودی پر راست طور سے رافائیل معاملے میں مداخلت کے ذریعہ دھاندلیوں کا بھی الزام لگایاجارہا ہے۔

کانگریس نے اپنے الزام میں کہا ہے کہ ائیرفورس کی طاقت میں فروغ کے تقابل وزیراعظم نے سرمایہ کاروں کو فوقیت دی ہے۔اس طرح کے الزامات کومودی حکومت کے وقت بے وقت مسترد کیاہے۔

سی اے جی کے ذرائع نے کہاکہ انڈیا ٹی وی ٹوڈے سے کہاکہ سی اے جی کی رپورٹ جو آج کی تاریخ میں رکھی گئی ‘ میں رافائیل معاہدے کو ڈیفنس کے لئے کی گئی خریدی کے طور پر پیش کیاگیا ہے۔اس کے علاوہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ رپورٹ میں معاہدے کے موزانہ موثر پیش کیاگیاہے۔

مودی حکومت کی پریشانیوں میں اضافہ کرنے کے لئے پیر کے روز دی ہندو نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں دعوی کیاگیا ے کہ اس کے پیش کردہ دستاویزی شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مودی حکومت کے رافائیل معاہدے پر دستخط سے قبل کے اینٹی کرپشن کے قواعد کی خلاف ورزی کی تھی۔

ایک او ررپورٹ میں پچھلے ہفتہ نیوز پیپر نے دعوی کیاہے کہ منسٹری نے فرانس کی جانب سے معاہدے میں پی ایم او نے مداخلت کی تھی۔فی الحال پی اے سی جس کی قیادت ملکارجن کھڑگے کررہے ہیں