دہلی میں ہندو مسلم کسانو ں کااتحادی مظاہرہ 

نئی دہلی : مرکزی حکومت کی پالیسیو ں کے خلاف او راپنے مطالبات کولے کر بھارتیہ کسان یو نین کے بینر تلے دہلی کوچ میں ہر مذہب کے ماننے والے کسان شامل ہیں ۔ مظفر نگرہندو مسلم فساد کے باوجود ہندو مسلم کسان ایک ساتھ احتجاج میں نظر آئے ہیں ۔ حالانکہ فساد کے بعد سے ہی اتر پردیش میں ہندو اورمسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کی کوشش ہورہی ہے ۔

مگر فرقہ پرستی میں یقین رکھنے والی پارٹیاں کسان اتحاد میں ہندو او رمسلم کسانوں کے درمیان دوریاں پیدا نہیں کرسکی جس کو اترپردیش ریاست اور ملک کے امن وامان کو خوش آئند بات مانی جارہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کسان مارچ میں مظفر نگر ، مراد آباد اورسہارنپور سمیت دیگر اضلاع سے بڑی تعداد میں مسلم کسان دہلی کوچ میں غیر مسلم کسان سے کاندھا ملا کردہلی ۔یوپی سرحد پر پہنچے ۔ اس کے ساتھ ہی دہلی کوچ کے راستوں کے اہم راستوں پر کسانوں کے جگہ جگہ پڑاؤ کے دوران حوصلہ بڑھانے اور ان کی خیر عافیت کیلئے غیر مسلم بستیوں کیساتھ مسلم بستیوں کے لوں گوں نے آگے آکر آپسی بھائی چارہ وامن شانتی کی بہترین مثال پیش کی ۔

اس دوران مسلمانو ں اور ہندو نے ایک ساتھ رہ کر ہندو مسلم کے درمیان پیدا کشیدگی کو دور کرنے میں مدد کی اور سارے ملک میں ایک اعلی مثال پیش کی ۔ ا س اتحادی مظاہرے کو ہر جگہ سے سراہا گیا او رنفرت کے ماحول کو ختم کر کے پیار و محبت کے ماحول کو بحال ہونے کی سمت میں مثبت قدم سے تعبیر کیا ہے ۔ بتایا جاتا کہ اس مجمع میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک تھے ۔ اس دوران ہندو مسلم کی بات چھوڑ کر صرف مسائل کی بات کی گئی ہے اورکسانوں کے مطالبات پر غور وفکر کیاگیا ۔

اس موقع پر بجنور ضلع کے نہٹور گاؤں کے رہنے والے کسان سید مثال مہدی نے کہا کہ کسانوں کا یہ مثالی مظاہرہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مظاہرے میں ہندو مسلم کا مسئلہ نہیں چھیڑا گیا بلکہ سب کسانوں اپنے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیا جو ان کے خاندان والوں کی خوش حالی کیلئے ضروری ہے او ران کے مسائل حل ہونے سے کسان خاندانوں کو راحت ملے گی ۔