دلت نوجوان کا ’گھڑسواری کی پاداش میں‘ قتل ، 3 افراد محروس

احمدآباد ، بھاؤنگر (گجرات) ، 31 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ایک دلت نوجوان کو ضلع بھاؤنگر میں اعلیٰ ذات والوں نے گھوڑے کا مالک بننے اور گھڑسواری کرنے کی ’پاداش‘ میں مبینہ طور پر ہلاک کیا ہے، پولیس نے یہ بات بتائی۔ بھاؤنگر ایس سی، ایس ٹی سل کے ڈپٹی ایس پی اے ایم سید نے کہا کہ 21 سالہ پردیپ راٹھوڑ کو بھاؤنگر کے تعلقہ اُمرالا کے موضع تیمبی میں جمعرات کو قتل کیا گیا، اور تین مشتبہ افراد کو پوچھ تاچھ کیلئے محروس کیا گیا ہے۔ انھوں نے کہا: ’’ہم نے بعض سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کرلیا ہے جس میں پردیپ کو اپنے گھوڑے پر سوار دیکھا جاسکتا ہے اور پھر اُس کی نعش برآمد ہوئی۔ ہم اس کیس کی مختلف زایوں سے تحقیقات کررہے ہیں، جن میں پرانی مخاصمت یا معاشقہ شامل ہے۔‘‘ پردیپ کے باپ کالوبھائی راٹھوڑ نے اُمرالا پولیس کے پاس اپنی شکایت میں دعویٰ کیا کہ اعلیٰ ذات کے بعض راجپوتوں کو تب سے اُس کے بیٹے سے بغض ہوگیا جب وہ حال میں ایک گھوڑا خرید لایا تھا اور وہ گھڑسواری کرنے لگا تھا۔ حکومت گجرات نے اس کیس کی تفصیلی تحقیقات کیلئے ایک سینئر آئی پی ایس عہدہ دار کو مقرر کیا ہے۔ پردیپ کی ہلاکت نے 2016ء میں ضلع گیر سومناتھ کے اُونا ٹاؤن میں پیش آئے واقعہ کی یادیں تازہ کردی ہیں جب اعلیٰ ذات کے آدمیوں نے چار دلت نوجوانوں کو مبینہ گاؤ کشی پر سرعام باندھ کر کوڑے برسائے تھے۔ 2017ء میں بھی ضلع گاندھی نگر میں دلت نوجوانوں کے خلاف ظلم کا کیس درج ہوا، جب انھیں گھنی مونچھیں رکھنے پر اعلیٰ ذات والوں نے پیٹا اور اُن کی مونچھیں کٹوا دیئے تھے۔