عسکریت پسندوں کا ڈھیٹ ہونا لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ، سیاسی حل کا انتظار نہیں کیا جاسکتا، ارون جیٹلی کا بیان
نئی دہلی۔22 جون (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس اور انسانی حقوق کے گروپوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے آج کہا کہ ایسے دہشت گردوں سے نمٹنا جو خود سپردگی سے انکار کردیں، طاقت کے بے جا استعمال والی پالیسی نہیں بلکہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے جو سیاسی حل برآمد ہونے تک ٹالا نہیں جاسکتا ہے۔ جموں وکشمیر میں گورنر راج کا نفاذ ہونے کے بعد کانگریس قائدین نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے طاقت کے استعمال والی پالیسی کی واپسی ہوسکتی ہے تاکہ مسئلہ کشمیر سے نمٹا جاسکتے۔ جیٹلی نے اپنے فیس بک پوسٹ میں کہا کہ بعض اوقات ہم ایسے محاوروں میں پھنس جاتے ہیں جو خود ہم بناتے ہیں۔ اس طرح کا ایک فقرہ ’’کشمیر میں طاقت کے استعمال کی پالیسی‘‘ ہے۔ کسی قاتل سے نمٹنا بھی لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے۔ اس سلسلہ میں سیاسی حل برآمد ہونے تک انتظار نہیں کیا جاسکتا۔ کوئی فدائن مرنے کے لیے آمادہ ہے۔ وہ لوگوں کو قتل اور ہلاک کردینے کا ارادہ بھی رکھتا ہے۔ کیا اس سے ستیہ گرہ کے ذریعہ نمٹا جاسکتا ہے؟ جب وہ قتل کے لیے پیش قدمی کرتا ہے تو کیا سکیوریٹی فورسس کو اسے روک کر بات چیت کے لیے میز پر آنے کی دعوت دی جاسکتی ہے؟ جیٹلی کا تبصرہ چند روز بعد سامنے آیا ہے جبکہ بی جے پی نے جموں و کشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد چھوڑ دیا۔ جس کے نتیجہ میں اس ریاست میں صدر راج کا نفاذ ہوا ہے۔ سابقہ چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے بھی کہا تھا کہ سختی والی سکیوریٹی پالیسی سے جموں و کشمیر میں کام نہیں چلے گا۔ بلکہ اس ریاست میں مسائل کی یکسوئی کے لیے مصالحت ہی کلید ہے۔ جیٹلی نے کہا کہ پالیسی کا مقصد وادی کے عام شہری کی حفاظت ہونا چاہئے اور انہیں دہشت گردی سے آزادی ملنی چاہئے۔ نیز ان کی زندگی اور ماحول کے معیار کو بہتر بنانے کی کوشش بھی ہونی چاہئے۔ ہندوستان کے اقتدار اعلی کا تحفظ ترجیحی مقصد ہے اور اس کے ساتھ ہی تمام شہریوں کی زندگی کے حقوق کا بھی تحفظ ہونا چاہئے۔ جیٹلی نے افسوس ظاہر کیا کہ انسانی حقوق کی تنظیم جس پر بائیں بازو کے انتہاپسندوں کا غلبہ ہوگیا ہے، اس نے کبھی بے قصور شہریوں کی انسانی حقوق سے محرومی کے تعلق سے بات نہیں کی جو اُن کے تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ انہوں نے سکیوریٹی پرسنل کی بار بار ہلاکتوں پر کبھی ایک آنسو تک نہیں بہایا ہے۔ اگرچہ کانگریس پارٹی تارخی اور نظریاتی اعتبار سے اس طرح کے ہیومن رائٹس گروپس کی مخالفت کرتی لیکن انہیں راہول گاندھی کی طرف سے ہمدردی حاصل ہوئی ہے۔ راہول گاندھی کو ان عناصر کے ساتھ کوئی ہچکچاہٹ نہیں جو جے این یو اور حیدرآباد میں تخریب کاری والے نعرے بلند کرتے ہیں۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی غلط کشمیر پالیسی کا بدترین شکار وادی کشمیر کا متوطن رہا ہے۔ گزشتہ تین سال سے دہشت گردوں نے اپریل، مئی اور جون میں اپنی سرگرمیوں میں شدت پیدا کی ہے تاکہ وادی کی معیشت کے اہم جز سیاحت کے سیزن کو متاثر کیا جاسکے۔ وہ عدالتوں کو دھمکاتے ہیں، ایڈیٹروں کو ہلاک کرتے ہیں اور بے قصور شہریوں کو بھی مار ڈالتے ہیں۔