حکمرانوں کے ہاتھ مظلوموں کے خون سے رنگے ہیں

سنگھ پریوار دنیا کی سب سے زہریلی جڑ ‘ مسلمان و دلتوں کا آپسی اتحاد ضروری ‘ ایس آئی او ریاستی کانفرنس سے جسٹس کولسے پاٹل و دیگر کا خطاب

٭ انصاف کیلئے اٹھنے والی آوازوں کو دبانا فسطائی طاقتوں کا مقصد : عمر خالد
٭ نجیب کی گمشدگی کے معاملہ کو منطقی انجام تک پہونچانے جدوجہد : فاطمہ نفیس
٭ جو لوگ کمزور ہیں وہ کمزوروں ہی کا انتخاب کریں۔ رادھیکا ویمولہ

حیدرآباد۔9ستمبر(سیاست نیوز) مسلمانوں پر مظالم موجودہ دور کے واقعات نہیں ہیں۔ برسوں سے مسلمانوں اور دلتوں کو نت نئی سازشوں کے تحت نشانہ بنایاجارہا ہے۔ اس کی منظم انداز میںشروعات بابری مسجد کی شہادت اور اس کے بعد ممبئی میںپیش آئے سلسلہ وار بم دھماکوں سے ہوئی۔ علاقائی سطح پر مسلمانوں کو فرضی مقدمات میںپھنسا کر انہیں ہراساں کرنے کی شروعات بھی اسی دور سے ہوئی تھی۔ فسطائی طاقتوں سے مقابلے کیلئے مسلمانوں و ہندوئوں (دلتوں) کو ایک پلیٹ فارم پر آنے کی ضرورت ہے ۔ میدان عمل میںاتر کر جدوجہد کرو یا پھر گھر میںبیٹھے موت کا انتظار کرتے رہو ۔ اس سونچ کے ساتھ مستقبل کی حکمت عملی تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ایس آئی او کے زیر اہتمام نمائش میدان میں یوتھ کوئیک عنوان پر منعقدہ ریاستی کانفرنس کے پبلک ٹربیونل کی سماعت کے بعد جسٹس کولسے پٹیل( سابق چیف جسٹس مہاراشٹرا ہائی کورٹ) نے ان خیالات کا اظہار کیا۔ مذکورہ سنوائی میں اپنا مقدمہ پیش کرنے والوں میں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے آنجہانی طالب علم روہت ویمولہ کی ماں رادھیکاویمولہ‘ پچھلے دوسال سے لاپتہ جواہرلال نہرو یونیورسٹی طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس نے اپنا مقدمہ پیش کیا ۔ سنوائی کرنے والے وکلاء میںجناب مظفر اللہ خان شفاعت‘ ایڈوکیٹ یسیٰین وہاب شامل تھے ۔ اس کے علاوہ اس سیشن میں انقلابی گلوکار غدر ‘ ترجمان ایم بی ٹی امجد اللہ خان نے بھی خطاب کیا۔ جسٹس کولسے پٹیل نے کہاکہ خودکشی سے قبل روہت ویمولہ نے جو مکتوب لکھا تھا اس کا متعدد مرتبہ میں نے مطالعہ کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کی سب سے زہریلی جڑ سنگھ پریوار کی ہے جو پچھلے پانچ ہزار سال سے اپنی سوچ نت نئے انداز میںپسماندگی کا شکار طبقات پر عائد کرتی آرہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج جو لوگ مغل حکمرانوں کو ملک کا دشمن قراردیتے ہیں ان کی ریاستی امور بھی ان ہی لوگوں کے ہاتھ میںتھی۔ انہو ںنے کہاکہ شیواجی مہاراج کی تاج پوشی کی تقریب کو نظر انداز کرنے والے کوئی اور نہیں بلکہ یہی لوگ تھے ۔ انہوں نے کہاکہ گجرات کے فسادات کسی ناگہانی واقعہ کا نتیجے نہیںہیں۔ گجرات کے قبائیلوں سے جب ہماری ملاقا ت ہوئی تو انہوں نے جو جانکاری دی گودھرا واقعہ سے کئی سال قبل سنگھ پریوار کے لوگ ان کی ذہن سازی کررہے تھے مسلمان قبائیلوں کے کس قدر دشمن ہیں۔ جسٹس پٹیل نے کہاکہ سڑک پر پھینکا ہوا کھانا بتاکر انہیں گمراہ کیاجاتاتھا اور یہ کہا جاتا تھا کہ ’ دیکھو مسلمان کس طرح بریانی پھینک رہے ہیں اور تم بھوکے ہو‘ ۔ انہوں نے بتایا کہ آخر میں انہیں اس قدر بدظن کردیاگیا کہ گوداھر سانحہ کے ساتھ ہی وہ پورا زہر تشدد کی شکل میںمسلمانوں کے خلاف سامنے آیا۔جسٹس کولسے پٹیل نے کہاکہ یہ وہ لوگ ہیںجن کے ہاتھوں فرض شناس آفیسروں کے خون سے بھی رنگے ہیں۔ ہمیں ہیمنت کرکرے کو نہیںبھولنا چاہئے جنھوں نے گاندھی جی کے قتل سے بڑی سازش کاپردہ فاش کیاتھا۔انہوں نے کہاکہ اجمل قصاب یا کسی اور نے کرکرے کو نہیںمارا بلکہ ان کاقتل آر ایس ایس اور آئی بی کے درمیان مبینہ اشتراک کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہاکہ آج مظلوں کے خون سے جن کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیںوہ اقتدار کی کرسی پر فائز ہیں اور بے قصور لوگ جیلوں میں قید وبندکی زندگی گذار رہے ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ روہت ویمولہ کا معاملہ ہو نجیب احمد کاقصہ ہمیں یہ بات سمجھ لیناچاہئے کہ اس ملک کی آبادی کا دیڑھ فیصد جو حصہ ہیں وہی لوگوں کا شمار ان واقعات کا اسکرپٹ لکھنے والوں میں ہے۔انہوں نے کہاکہ مجھے بھی مارنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں مجھے کہاجاتا ہے میں آزادی کے ساتھ کہیں گھومنے اور پھرنے سے گریز کروں مگر میں موت سے نہیںڈرتا ۔ انہوں نے روہت ویمولہ کے مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ جس طرح زندہ رہنے سے زیادہ روہت ویمولہ نے موت کو ترجیح دی ٹھیک اسی طرح میں بھی بزدلوں کی طرح زندہ رہنے کے بجائے سنگھ پریوار کی سازشوں کا پردہ فاش کرتے ہوئے مرنے کو ترجیح دونگا۔ انقلابی گلوکار غدر نے قومی او رریاستی سطح پر سیاسی انقلاب کیلئے پسماندہ طبقات کے اتحاد کو وقت کی اہم ضرورت قراردیا۔ انہو ںنے کہاکہ سرمایہ داروں کی سیاسی اور معاشی اجارہ داری کو ختم کرنے پسماندگی کاشکار طبقات کا اتحاد ضروری ہے۔ غدر نے اپنے انقلابی گیت پیش کئے۔ )

قبل ازیں محترمہ فاطمہ نفیس نے اپنامقدمہ پیش کرتے ہوئے تحقیقاتی اداروں کو نجیب کا پتہ لگانے میں ناکام قرار دیا۔ انہوں نے کہاکہ ہر روز ایک نیا بیان دے کر تحقیقاتی اداروں نے ہمیںگمراہ رکھا اور بالآخر نجیب کا کیس بند کرنے ہائی کورٹ میںدرخواست پیش کی۔ انہوں نے کہاکہ نجیب کی گمشدگی کے متعلق جب پولیس سے شکایت کی گئی تو پولیس نے نجیب کے گمشدہ ہونے سے ایک دن قبل یونیورسٹی کیمپس میںپیش آئے جھڑپ کے واقعہ کو نظر انداز کرکے شکایت کرنے والوں کو ہی ہراساں کیا۔ انہوں نے کہاکہ جن لوگوں کے خلاف ہم نے شکایت درج کرائی تھی ان کے خلاف اب تک کوئی کاروائی نہیںہوئی اور نہ ہی پولیس نے ان سے پوچھ تاچھ کی۔محترمہ فاطمہ نفیس نے کہاکہ پولیس جن لوگوں کے اشارہ پر کام کررہی ہے ان کی سرپرستی نجیب کے ساتھ جھڑپ میںملوث طلبہ کو حاصل ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے کچھ او رنہیں چاہئے میںصرف اپنا بیٹا واپس چاہتی ہوں ۔ تحقیقاتی اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ میرا لال مجھے واپس لاکر دیدیں۔ انہوں نے اپنے کیس کو سپریم کورٹ تک لے جانے کی بات بھی کہی ۔رادھیکا ویمولہ اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ تنگ دستی او رمعاشی پریشانی کے باوجود روہت ویمولہ ایک ہونہار طالب علم تھا ۔ انہو ںنے کہاکہ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں اسکالر شپ حاصل کرنے کے بعد اس نے پی یچ ڈی میںداخلہ لیامگر وہاں جاری ذات پات اور چھوت چھات کے معاملات سے وہ کافی دلبرداشتہ تھا۔ وہ اکثر کہتا تھا کہ بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر کے دستور کو ہر جگہ پر کارگرد بنانے مجھے جدوجہدکرنی ہے ۔ انہو ںنے کہاکہ خودکشی سے قبل روہت کا سشیل نامی طالب علم سے جھگڑا ہوا ۔ جس کے بعد اس وقت کے مرکزی وزیر برائے ایچ آرڈی سمرتی ایرانی اور سکندر آباد ایم پی بنڈارودتاتریہ کے بشمول بی جے پی ایم ایل سی نے یونیورسٹی انتظامیہ کو روہت کے خلاف کاروائی پر مجبور کیا۔انہوں نے کہاکہ ایک سیاسی سازش اور اہم قائدین کی پشت پناہی کے بعد روہت کو کیمپس سے بیدخل کرنے کا کھیل کھیلا گیا۔انہو ںنے کہاکہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ جب تک روہت ویمولہ زندہ تھا تب تک کسی کو اس کی ذات اور طبقہ کاخیال نہیں آیا مگر کلکٹر سے روہت ویمولہ کے دلت ہونے کی صداقت حاصل کرنے کے چھ ماہ بعد دوبارہ اس کی ذات کے متعلق تحقیقات کاحکم دیا گیا جو آج تک پوری نہیں ہوئی ۔ انہوں نے جلسہ کے شرکا سے اپیل کرتے ہوئے اب آپ کے پاس موقع ہے آپ فیصلہ کریں اور کمزور ہونے کے ناطے کسی کمزور کے انتخاب کوترجیح دیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ کمزور اورطاقتور کے درمیان مقابلہ نہیں ہوسکتا لہذا کسی کمزور کو اگر آپ منتخب کرتے ہیں تو ایسے گروپ کو کریں جو کمزور ہے اور وہی گروپ کمزور کی مدد کریگا۔انہوں نے فسطائی طاقتوں سے اجتناب اور سکیولر طاقتوں کا ساتھ دینے کی عوام سے اپیل کی۔جناب مظفر اللہ خان ایڈوکیٹ نے کہاکہ سنوائی میںجو واقعات سامنے ائے ہیں انہیںسن کر دل مغموم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں سماجی انصاف کی مثال ‘ خواتین کے حقوق کی تعلیم اگر سب سے پہلے کسی مذہب نے پیش کی ہے تو اسلام ہے۔انہوں نے کہاکہ آج غیرمسلم بھی اس بات کے معترف ہیں۔ دوسرے سیشن میں یونیورسٹی سطح مظالم پر مشتمل مختلف عنوانات پر جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر عمر خالد‘ ایس آئی او تلنگانہ اسٹیٹ صدر لئیق احمد خان‘ ایس آئی او قومی سکریٹری توصیف میڈیکری‘مسٹر درگم بھاسکر ( این ایس یو آئی)‘ ایس ناگیشوار رائو ( پی ڈی ایس یو)‘کے بشمول دیگر نے بھی خطاب کیا۔عمر خالد نے تلنگانہ ریاست کو انقلاب کا علمبردار قراردیتے ہوئے کہاکہ تلنگانہ سے شروع ہونے والی ہرتحریک کامیابی کے زینہ طئے کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ بلٹ ٹرین کے خواب نریندر مودی نے دکھائے مگر وہ بولٹ( گولیوں ) سے حکمرانی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گوری لنکیش‘ گوئند پنسارے‘ ونائیک دھابولکر‘ ایم ایم کلبرگی یہ ایسے نام ہیں جنھیں گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔ انہوں نے 13 اگست کو سخت سکیورٹی والے علاقے میں ان پر حملے کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ وہ مجھے بھی مارنا چاہتے تھے مگر کامیاب نہیںہوئے۔ عمر خالد نے کہاکہ فسطائی طاقتوں کامقصد محض انصاف کیلئے اٹھنے والی آواز کو دبانے خون بہانا او رخوف پیداکرنا ہے۔ عمر خالد نے کہاکہ مودی اور ان کے بھگتوں کی وارثت ملک کی آزادی پر انگریزوں کی غلامی کو ترجیح دینا ہے جبکہ ہماری وراثت شہید بھگت سنگھ‘ اشفاق اللہ خان‘ کمرم بھیم ہیں۔ انہوں نے مجھ پر ملک سے غداری کا الزام عائد کیاگیا مگر آج تک پولیس چارچ شیٹ داخل کرنے سے قاصر ہیں۔ انہو ں نے کہاکہ ملک کی کسی عدالت میں مجھ پر الزام لگانے والے ثابت کردیں کہ میں نے مخالف ملک نعرے لگائے ہیں ‘ اس کے بعد میںہر سزاکیلئے تیارہوں۔ انہوں نے کہاکہ میرے خلاف جھوٹا پروپگنڈہ کیاگیا اور مجھ پر فرضی الزام عائد کرکے نفرت کاماحول پیدا کیاگیا جس کے نتیجے میںمجھ پر جان لیوا حملہ ہوا تھا ۔ نہو ںنے ناکامیو ں کوچھپانے مودی کے قتل کی سازش کا سہارا لینے کا مرکز پر الزام عائد کیا۔ انہو ںنے کہاکہ ہندوئوں سے خطرہ کی سازش ناکام ہوگئی تو اب مودی کو خطرے کی نئی سازش لے کر اربن نکسل کا لفظ ایجاد کردیاگیا ۔ تیسرے سیشن کا آغازجنرل سکریٹری ایس آئی او تلنگانہ کے ابتدائی کلمات کی ادائی سے ہوا۔جناب سید عبدالباسط انور‘ مولاناحامد محمد خان امیر جماعت اسلامی ہند تلنگانہ واوڈیشہ ‘ جناب محمد اظہر الدین‘ جناب نصیر الدین‘ جناب ایم کے ایم ظفر‘ جناب عبدالحکیم‘ جناب اقبال حسین‘ جناب عبدالرئوف‘ جناب عبدالحسیب‘ جناب ملک محتصم خان‘جناب صادق احمد‘ جناب تنویر الحق‘ جناب آصف محی الدین‘ جناب محمد عطف اسماعیل‘ جناب عبدالملک شارق نے بھی خطاب کیا۔