محبوب نگر کے ٹی آر ایس قائدین کے خلاف پولیس میں شکایت، مصالحت کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کی مساعی
حیدرآباد ۔ 18 ۔ اپریل (سیاست نیوز) حج ہاؤز نامپلی میں آج اس وقت ہنگامہ کھڑا ہوگیا جب محبوب نگر سے تعلق رکھنے والے ایک وفد نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے بحث و تکرار کی۔ ٹی آر ایس سے تعلق رکھنے والے اقلیتی قائد اور ساتھیوں کے بعض نازیبا اور قابل اعتراض ریمارکس اور بدتمیزی پر محمد سلیم برہم ہوگئے اور اپنی کار سے اتر کر اس شخص کو ڈھکیل دیا ۔ دونوں کے درمیان لفظی تکرار اور دھکم پیل ہوئی۔ تاہم سیکوریٹی عملہ نے مداخلت کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔ صدرنشین وقف بورڈ کی شکایت پر عابڈس پولیس نے محبوب نگر کے افراد کو حراست میں لے لیا ۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے مداخلت کرتے ہوئے معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کی اور صدرنشین وقف بورڈ کو مشورہ دیا کہ وہ پولیس شکایت سے دستبرداری اختیار کرلیں۔ بتایا جاتا ہے کہ محبوب نگر وقف کامپلکس کمیٹی کی تشکیل کے سلسلہ میں ٹی آر ایس اقلیتی سیل کے صدر محمد مقبول مقامی قائدین کے ساتھ نمائندگی کیلئے وقف بورڈ پہنچے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف کامپلکس میں بے قاعدگیوں کے خاتمہ کیلئے نئی کمیٹی کی تشکیل کا فیصلہ کیا گیا اور مقامی رکن پارلیمنٹ جتییندر ریڈی اور رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے کمیٹی میں محمد مقبول کا نام شامل کرنے کی سفارش کی ۔ بتایا جاتا ہے کہ بورڈ کے اجلاس میں کمیٹی کو منظوری دے دی گئی ۔ تاہم پروسیڈنگ جاری نہیں کی گئی ۔ رکن اسمبلی سرینواس گوڑ نے اس سلسلہ میں کل صدرنشین وقف بورڈ کو توجہ دلائی جس پر انہوں نے مقامی افراد کو آج روانہ کرنے کی خواہش کی تھی ۔ محمد مقبول اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وقف بورڈ پہنچے اور صدرنشین کی واپسی کے موقع پر ملاقات کی ۔ محمد سلیم نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی عدم موجودگی کے سبب دوبارہ آنے کی ہدایت دی ۔ اس موقع پر صدرنشین کی تیزی سے روانگی سے ناراض ہوکر محبوب نگر کے قائدین نے کچھ ریمارکس کئے ۔ محمد سلیم جب واپسی کیلئے کار میں سوار ہوئے تب محبوب نگر کے قائدین دوبارہ پہنچ گئے اور بحث و تکرار کی۔ ایک مرحلہ پر بعض نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں ، لہذا دیرینہ حل طلب مسئلہ کی یکسوئی ہونی چاہئے ۔ قابل اعتراض ریمارکس سے ناراض ہوکر صدرنشین وقف بورڈ کار سے اتر پڑے اور محمد مقبول کو ڈھکیل دیا۔ دھکم پیل ہنگامہ آرائی کے دوران پولیس کو طلب کیا گیا۔ محمد سلیم نے الزام عائد کیا کہ ان پر حملہ کی کوشش کی گئی ۔ انہوں نے کہا کہ محبوب نگر میں لینڈ گرابرس وقف کامپلکس کا بیجا استعمال کر رہے ہیں اور وقف بورڈ کو کارروائی سے روکا جارہا ہے۔ انہوںنے روڈی شیٹرس کے ذریعہ حملہ کی پولیس میں شکایت کی ۔ صدرنشین کی روانگی کے بعد پولیس نے ٹی آر ایس قائدین کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کردیا ۔ اس واقعہ سے حج ہاؤز میں ہلچل پیدا ہوگئی اور بڑی تعداد میں میڈیا کے نمائندے پہنچ گئے۔ معاملہ کو رفع دفع کرنے کیلئے ڈپٹی چیف منسٹر کی مساعی رات تک بھی جاری رہی لیکن صدرنشین وقف بورڈ اپنے موقف پر اڑے رہے۔