حج کمیٹی کنگال! بجٹ سے ابھی تک ایک روپیہ بھی نہیں دیا گیا

حیدرآباد /27 جولائی ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت مرکز کو خوش کرنے کا کوئی بھی موقع ضائع نہیں کر رہی ہے اور اقلیتی بجٹ کی عدم اجرائی کے ذریعہ مرکزی حکومت کے نقشے قدم پر چلنے کی کوشش میں مصروف ہے ۔ یکم اگست سے عازمین حج مقدس فریضہ کی ادائیگی کیلئے پرواز کرنے والے ہیں مگر حکومت کی جانب سے ابھی تک ایک روپئے بھی جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ سال برائے 2018-19 کیلئے تلنگانہ حکومت نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کیلئے بجٹ میں 2000 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی ہے ۔ بجٹ کی منظوری کے 4 ماہ مکمل ہونے کے باوجود افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ ابھی تک پہلا کوارٹر بھی جاری نہیں کیا گیا ۔ رواں سال حج کمیٹی کیلئے بجٹ میں 4 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں ۔ عازمین کی روانگی کیلئے تین تا چار یوم باقی رہ گئے ہیں مگر حکومت نے اس جانب ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ واضح رہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اقلیتی بہبود کا قلمدان اپنے پاس رکھا ہے ۔ مگر بجٹ کی اجرائی فلاحی اسکیمات پر عمل آوری کے معاملے پر کوئی توجہ نہیں دی ہے ۔ جس سے ریاست کے مسلمانوں میں مایوسی پائی جاتی ہے ۔ 2 ہزار بجٹ کی منظوری پر کافی شور شرابہ کیا گیا 4 ماہ کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے کئی اداروں کو ایک روپئے بھی جاری نہیں کیا گیا جس پر سب خاموش ہیں ۔حکومت تلنگانہ بغیر کسی خرچ کے ریاست کے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی ترقی بہبود کے معاملے میں صرف اعلانات کرنے تک محدود ہے ۔ بجٹ کی منظوری کے بعد اقلیتی اداروں کو اب تک فنڈز جاری نہ کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ بجٹ میں بھاری اضافہ صرف اعداد و شمار میں بہتری لانے اور کاغذ کی کارروائی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ ریاست میں عازمین کی روانگی کا عمل شروع ہونے والا ہے ۔ لیکن ریاستی حج کمیٹی اب بھی فنڈز سے محروم ہے ۔ فنڈز کی عدم اجرائی کیلئے حکومت کے ساتھ ساتھ متحرک اور بااثر عہدیدار بھی برابر کے ذمہد ار ہیں ۔ محکمہ اقلیتی بہبود میں اکثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ عہدیدار اقلیتوں کی ترقی و بہبود سے زیادہ اپنی شخصی تشہیر میں مصروف ہیں ۔ حکومت کے دوسری اسکیمات اور پروگرامس کیلئے فوری فنڈز جاری ہوتے ہیں ۔ مگر دولتمند ریاست میں اقلیتوں کیلئے فنڈز کی عدم اجرائی باعث حیرت ثابت ہو رہی ہے ۔