پرانا شہر میں مجلس کا تشدد، کانگریس ،ٹی آر ایس قائدین اور ایم بی ٹی امیدوار پر حملے ، پولیس کے رویہ پر اپوزیشن کی تنقید
حیدرآباد 2 فروری (پی ٹی آئی ؍ این ایس ایس) جی ایچ ایم سی انتخابات کیلئے پرانے شہر میں چند جھڑپوں اور پرتشدد واقعات کے سواء رائے دہی کا پرامن انعقاد عمل میں آیا۔ جی ایچ ایم سی کے کمشنر اور الیکشن آفیسر بی جناردھن ریڈی نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ شام 6 بجکر 30 منٹ تک تقریباً 45 فیصد رائے دہی ریکارڈ کی گئی۔ پرانا شہر کے علاقہ میر چوک میں کشیدگی پیدا ہوگئی جب مجلس اتحاد المسلمین (ایم آئی ایم) اور کانگریس کے کارکنوں کے درمیان جھڑپ ہوگئی۔ میرچوک کے اسسٹنٹ کمشنر پولیس سرینواس راؤ کے مطابق پولیس نے متصادم گروپوں کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج کیا۔ گڑبڑ اس وقت شروع ہوئی جب تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اتم کمار ریڈی اور قانون ساز کونسل میں اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر اپنی پارٹی کے ایک امیدوار محمد غوث کو پولیس تحویل سے رہا کروانے کیلئے پولیس اسٹیشن پہونچے تھے کہ مجلس کے صدر اسد اویسی بھی وہاں پہونچ گئے جس کے ساتھ ہی کشیدگی پھیل گئی۔ اس دوران پولیس نے احمد پاشاہ قادری کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اتم کمار ریڈی نے دعویٰ کیاکہ ’’یہ ٹی آر ایس اور مجلس کی سازش ہے کسی بھی طرح وہ الیکشن جیتنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے ہمارے امیدوار کو گرفتار کرلیا لیکن شدید دباؤ کے نتیجہ میں رہائی عمل میں آئی‘‘۔ اتم کمار ریڈی نے کہاکہ اس مسئلہ پر پولیس میں شکایت درج کروائی گئی ہے۔ ڈاکٹر جناردھن ریڈی نے کہاکہ آصف نگر، شاہ علی بنڈہ، شاستری پورم، لنگرحوض، اعظم پورہ، اکبر باغ اور چند دیگر مقامات پر تشدد کے واقعات پیش آئے۔ انھوں نے بتایا کہ تمام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کو اسٹرانگ رومس میں محفوظ کرنے کے اقدامات جاری ہیں۔ کمشنر بلدیہ نے بتایا کہ اس سال صرف 4 ٹنڈر ووٹ ریکارڈ کئے گئے جن کی تعداد گزشتہ انتخابات میں 300 تھی۔ انھوں نے کہاکہ تمام پولنگ بوتھس اور اسٹیشنوں میں رائے دہی مجموعی طور پر پرامن رہی اور ریکارڈ کے مطابق تاحال کسی بھی مقام پر دوبارہ رائے دہی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ صبح کے اوقات میں چند مقامات پر الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں خامی کے سبب 10 تا 15 منٹ کی تاخیر ہوئی۔ تاہم فوری اقدامات کے بعد رائے دہی کو بحال کردیا گیا۔ کمشنر بلدیہ جناردھن ریڈی نے کہاکہ رائے دہی کے فیصد میں اضافہ اور صد فیصد رائے دہی کو یقینی بنانے کے اقدامات میں بلدی عہدیداروں کو خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ انھوں نے رائے دہی میں شامل شہریوں کا شکریہ ادا کیا۔ ایک سوال کے جواب میں کمشنر بلدیہ نے کہاکہ کسی بھی مقام پر پولنگ اسٹیشن یا پھر پولنگ بوتھ کے اندر ناخوشگوار واقعات پیش نہیں آئے۔ تاہم پریسائیڈنگ آفیسرس کی رپورٹ کے بعد قطعی فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا دوبارہ پولنگ کی ضرورت درکار ہوگی یا نہیں۔ تاہم انھوں نے کہاکہ کسی بھی مطالبہ پر دوبارہ رائے دہی کیلئے حقیقی حالات کا پیش آنا ضروری ہے۔ ووٹوں کی گنتی 5 فروری جمعہ کو ہوگی اور دوپہر 12 بجے کے بعد نتائج کے اعلان کا آغاز ہوجائے گا۔