ملک بھر میں شہر حیدرآباد شادیوں میں فضول خرچی کے لئے جانا جاتا ہے مگر اس دور میں جناب احمد علی صاحب جو نظام میوزیم کے کرئیٹر ہیں انہوں نے اپنے لڑکے کی شادی کے دن صرف گھر کے 80لوگوں کو مدعو کیا اور ولیمہ بھی انتہائی سادہ تھا اور بہت کم لوگوں کو اس میں بلایا گیا تھا۔
اور آج کل رقعہ بھی بہت مہینگے چھپتے ہیں مگر انہوں نے رقعہ بھی انتہائی کم کے عام کاغذ میں چھپوایا ،اور رقعہ میں شادی کی تاریخ لکھی گئی تھی اوراس میں مقام نہیں لکھا گیا ، واضح رہے کہ رقعہ کے ساتھ مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئی اس لئے کہ وہ بھی اس خوشی میں شریک ہو ۔
انکے اس کام کو ہر طرف سے سراہا جا رہا اور لوگ ہر طرف سے ایسی شادیوں کے مانگ کر رہے ہیں مگر سماجی دباؤ اور لوگوں کے طعنوں کے ڈر سے کوئی نہیں کرتا لوگوں کو ان کے دباؤ اور طعنوں سے ڈر ہے مگر اللہ کا خوف نہیں۔
فضول خرچی اسلام میں بہت بڑا عیب ہے اور اسکو قرآن میں شیطان کا بھائی تک کہا گیا ہے ،اسلام نے شادی کو آسان بنایا تھا اسلئے کہ لوگ زنا سے بچیں اور اسکے قریب بھی نہ جائیں مگر لوگوں نے آج زنا کو آسان بنایا ہے مگر شادی کو اور نکاح جیسے مقدس عمل کو مشکل بنایا ہے ۔ دیکھیں ویڈیو۔
(سیاست نیوز)