تلگودیشم کی مخالف بی جے پی مہم، بی جے پی کو گالی جناردھن ریڈی کا سہارا، ووٹ تقسیم کرنے کی کوشش
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) کرناٹک میں تلگوداں رائے دہندے 12 اضلاع میں انتخابی نتائج پر اثرانداز ہوسکتے ہیں لہٰذا بی جے پی اور کانگریس نے تلگو علاقوں پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ بی جے پی آندھراپردیش اور تلنگانہ کے قائدین کو انتخابی مہم میں شامل کرتے ہوئے تلگو رائے دہندوں کی تائید حاصل کرنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ بیلاری سے تعلق رکھنے والے متنازعہ صنعتکار گالی جناردھن ریڈی کو میدان میں اتارا ہے۔ گالی جناردھن ریڈی 50 ہزار کروڑ کے مائننگ اسکام میں ملوث ہیں اور جیل کی سزاء کاٹ چکے ہیں۔ کانگریس نے فلم اسٹار چرنجیوی اور دیگر قائدین کو انتخابی مہم میں مدعو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرناٹک میں تلگو عوام کے ووٹ کس پارٹی کے حق میں جائیں گے اس پر سیاسی حلقوں میں مختلف قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ آندھراپردیش میں برسر اقتدار تلگودیشم کے حالیہ دنوں بی جے پی سے اختلافات کے سبب اندیشہ ہے کہ تلگو عوام جن کا تعلق آندھراپردیش سے ہے، وہ علاقہ سے ناانصافی کے مسئلہ پر بی جے پی کو سبق سکھائیں گے۔ دوسری طرف آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والی مرکزی وزیر نرملا سیتارامن اور بی جے پی قائدین کو ان 12 اضلاع میں انتخابی مہم میں شامل کیا جاسکتا ہے جہاں تلگو عوام کی قابل لحاظ آبادی ہے۔ آندھراپردیش کو خصوصی موقف دیئے جانے سے مرکز کے انکار کے بعد چندرا بابو نائیڈو نے اپنے بعض وزراء کو کرناٹک روانہ کیا تاکہ بی جے پی کے خلاف مہم چلائی جائے۔ دوسری طرف تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے تلگو عوام کیا کے سی آر کی اپیل کے مطابق جنتادل سکیولر کو ووٹ دیں گے؟ یہ سوال اہمیت کا حامل ہے لیکن مبصرین کا ماننا ہے کہ چندرشیکھررائو کی اپیل کا تلگو عوام پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا کیوں کہ اصل مقابلہ کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے اور کئی برسوں سے کرناٹک میں مقیم تلنگانہ کے رائے دہندے دونوں میں کسی ایک پارٹی کا انتخاب کریں گے۔ بی جے پی اس بات سے خوفزدہ ہے کہ تلگودیشم کی مرکز سے ناراضگی کا اثر انتخابی نتائج پر پڑسکتا ہے۔
کرناٹک کی جملہ آبادی میں تلگو بولنے والوں کی تعداد 15 فیصد ہے اور وہ 12 اضلاع میں اپنا خاصہ اثر رکھتے ہیں۔ بینگلور اربن، بنگلور رورل، کولار، چترادرگا، بیلاری، کوپال، رائے چور، گلبرگہ، یادگیر اور بیدر میں تلگو عوام جس امیدوار کے حق میں متحدہ طور پر ووٹ دیں اس کی کامیابی یقینی سمجھی جاتی ہے۔ سابق حیدرآباد کرناٹک کے اضلاع میں تلگو عوام کی قابل لحاظ آبادی کے تلنگانہ سے تاریخی اور تہذیبی روابط ہیں۔ حیدرآباد کرناٹک کے علاقوں میں کانگریس اور جنتادل سکیولر تلگو ووٹ حاصل کرنے میں مسابقت کررہے ہیں جبکہ بی جے پی ووٹ کی تقسیم سے پر امید ہے۔ کرناٹک کی سیاست میں گالی جناردھن ریڈی کی بی جے پی کے ذریعہ واپسی نے مقابلہ کو مزید دلچسپ بنادیا ہے۔ بی جے پی نے نہ صرف گالی جناردھن ریڈی کے بھائی کو ٹکٹ دیا بلکہ ان کے دو حامیوں کو بھی امیدوار بنایا گیا۔ اس طرح تین اضلاع میں بی جے پی کے امکانات میں اضافہ کی کوشش کی گئی ہے۔ گالی برادرس کا سہارا لیتے ہوئے بی جے پی کانگریس کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے۔ گالی سوماشیکھر ریڈی کو بیلاری سٹی سے ٹکٹ دیئے جانے کے بعد گالی جناردھن ریڈی نے کہا کہ بزنس میں واپسی ہوئی ہے اور دوسری اننگ بہتر اور کامیاب رہے گی۔ ایک ماہ قبل تک بھی گالی برادرس کا سیاسی مستقبل غیر یقینی تھا۔ بی جے پی صدر امیت شاہ نے گالی جناردھن ریڈی سے بی جے پی کی لاتعلقی کا اظہار کیا تھا لیکن بیلاری کے بی جے پی رکن پارلیمنٹ بی سری راملو نے بی جے پی ہائی کمان کو منانے میں اہم رول ادا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ گالی برادرس کی پارٹی کو ضرورت سے آگاہ کرتے ہوئے انہیں ایک موقع دیئے جانے کے لیے راضی کیا۔ گالی برادرس بیلاری، چترادرگا اور رائے چور میں خاصہ اثر رکھتے ہیں جو آندھراپردیش کے سرحدی اضلاع ہیں۔ اسی دوران ٹی آر ایس کے رکن راجیہ سبھا جے سنتوش کمار نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے تلگو عوام سے جنتادل کی تائید کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق کے سی آر کرناٹک میں چند انتخابی جلسوں سے خطاب کرسکتے ہیں۔ کے سی آر کا کرناٹک کی انتخابی مہم میں حصہ لینا تیسرے محاذ کی کی تیاریوں میں پیشرفت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ بنگلور سٹی میں 10 لاکھ تلگو ووٹرس ہیں۔ تلگودیشم پارٹی نے تلگو عوام کے حلقوں میں مخالف بی جے پی مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ گزشتہ دنوں ڈپٹی چیف منسٹر آندھراپردیش کے ای کرشنا مورتی نے بنگلور میں عوام سے اپیل کی کہ وہ بی جے پی چھوڑکر کسی بھی پارٹی کو ووٹ دیں۔ تلگودیشم کی اس مہم سے کانگریس کو فائدہ کا امکان ہے کیوں کہ بی جے پی کا واحد متبادل تلگوعوام کے لیے کانگریس ہوسکتی ہے۔ بی جے پی نے تلگو ووٹ تقسیم کرنے کی بھی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔