ترکی میں لاپتہ معروف صحافی کے قتل کا انکشاف

انقرہ،7اکتوبر(سیاست ڈاٹ کام)ترکی میں لاپتہ ہونے والے معروف سعودی صحافی جمال خاشقجی کے حوالہ سے ترک پولیس کو خدشہ ہے کہ انہیں منصوبہ کے تحت سعوی عرب کے قونصل خانہ کے اندر قتل کردیا گیا۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق ترکی کے سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ”پولیس کا اپنی ابتدائی تفتیش کے نتائج میں ماننا ہے کہ ایک خاص ٹیم کو استنبول بھیج کر صحافی کو قتل کیا گیا اور وہ اسی دن واپس بھی چلے گئے ”۔پولیس کی جانب سے تصدیق کے بعد یہ خبر آئی کہ سعودی عہدیداروں سمیت 15 شہری دو الگ الگ پروازوں میں استنبول پہنچے اور اسی دوران معروف صحافی بھی قونصل خانے میں موجود تھے ۔سعودی عرب سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے جمال خاشقجی امریکی خبار ‘واشنگٹن پوسٹ’ سے وابستہ تھے جبکہ ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالہ سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔جمال خاشقجی کی منگیتر کے مطابق وہ استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں داخل ہوئے تھے اور اس کے بعد سے انہیں کسی نے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی اطلاعات موصول ہوئیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم دستاویزات کے سلسلے میں سعودی سفارت خانے گئے تھے لیکن مجھے جمال کے ہمراہ اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور ان کا موبائل بھی باہر ہی رکھوا لیا گیا تھا۔دوسری جانب سعودی عرب نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ صحافی سعودی شہری تھے اس لیے انہیں بھی معلومات درکار ہیں۔