ہجومی تشدد کا مسئلہ اُٹھانے والے منافقین : میناکشی لیکھی، کانگریس کی عدالت میں درخواست
نئی دہلی 24 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) راشٹریہ سیوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے لیڈر اندریش کمار نے گزشتہ روز یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ پیدا کردیا کہ ملک بھر میں جاری ہجومی تشدد کے واقعات اُس وقت ختم ہوجائیں گے جب عوام بیف کھانا بند کردیں۔ اندریش کمار نے دعویٰ کیاکہ اسلام اور عیسائیت جیسے مذاہب میں بھی گاؤکشی پر پابندی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حضرت یسوع کی پیدائش مویشیوں کے اسطبل میں ہوئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ عیسائی بھی گائے کو مقدس گائے کہتے ہیں۔ مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ میں بھی گاؤکشی پر پابندی ہے۔ ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ انسانیت کو اس گناہ سے چھٹکارہ دلایا جائے۔ اگر سماج اس گناہ سے نجات پائے گا تو اس (سماج کو) ہجومی تشدد سے بھی نجات مل جائے گی۔ اندریش کمار نے کہاکہ ’’ہجومی تشدد میں افراد کی ہلاکت قابل مذمت ہے لیکن گاؤکشی تمام مذاہب میں گناہ ہے‘‘۔قبل ازیں بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی نے ہجومی تشدد کا مسئلہ اُٹھانے والوں کو آج ’منافقین‘ قرار دیتے ہوئے کہاکہ اُنھوں نے 1984 ء کے مخالف سکھ فسادات اور 2002 ء میں ہجومی تشدد میں کارسیوکوں کی مبینہ ہلاکتوں کو فراموش کردیا ہے۔جئے پور سے موصولہ اطلاع کے بموجب راجستھان کے الور میں گائورکشکوں کے ذریعہ 28 سالہ شخص کا پیٹ پیٹ قتل کردینے کے معاملہ میں سپریم کورٹ 20 اگست کو سماعت کرے گی۔یہ درخواستتحسین پونا والا نے داخل کی تھی۔ اس میں انہوں نے راجستھان حکومت اور افسران پر سپریم کورٹ کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کا الزام لگایا تھا۔اس سے قبل سپریم کورٹ نے ماب لنچنگ جیسے واقعات پر فیصلہ سناتے ہوئے مرکز کے ساتھ ساتھ ریاستی حکومتوں کو بھی مناسب کاروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ میں یہ بھی کہا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کی جائے گی لیکن عدالت کے فیصلہ کے باوجود ایسے پرتشدد واقعات رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔