بھوپال شاجاپور ، یو پی کے ضلع بھدوہی اور گجرات میں فرقہ وارانہ جھڑپیں

مدھیہ پردیش میں ڈی جے کی آواز پر اعتراض ،یو پی کے ایک شادی خانہ میں زبانی تکرار اور گجرات میں مہارانا پرتاپ یوم پیدائش جلوس پر سنگباری
شاجاپور/ بھدوہی /وڈودھرا ۔17جون ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک کی تین ریاستوں میں عیدالفطر کے موقع پر فرقہ وارانہ جھڑپیں دیکھی گئیں ۔ مدھیہ پردیش کے علاقہ شاجاپور میں دو فرقوں کے درمیان جھڑپ اُس وقت ہوئی جب ڈی جے بجانے پر اعتراض کیا گیا ۔ یو پی کے ضلع بھدوہی میں شادی خانے میں زبانی تکرار کے بعد جھڑپ ہوئی جبکہ گجرات کے ضلع وڈودھرا میں راجپوت مہارانا پرتاپ کی یوم پیدائش کے موقع پر نکالے گئے جلوس کے دوران تشدد بھڑک اٹھا ۔ مدھیہ پردیش کے شاجاپور میں جلوس پر پتھراؤ کے بعد 2 فریقوں میں جھڑپ ہوگئی ۔ دونوں فریقوں کی جانب سے سنگباری کی گئی جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے ۔ شرپسندوں نے سڑکوں پر کھڑی تقریباً 40 گاڑیاں ، موٹر سائیکلوں ، آٹو رکشاؤں کو نذر آتش کردیا اور کئی مذہبی مقامات کو نقصان پہونچایا جبکہ پولیس نے 5 گاڑیوں کو جلائے جانے کی تصدیق کی ۔ فسادیوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیاس کے شیل برسائے گئے ۔ علاقہ میں امتناعی احکام 144نافذ کیا گیا ہے ۔ مہارانا پرتاب جینتی کے موقع پر جلوس نئی سڑک سے بس اسٹانڈ کی جانب جارہا تھا کہ بھوتیشور مہادیو مندر کے قریب ایک اسٹیج قائم کیا گیا تھا جہاں بجنے والے ڈی جے کی آواز کم کرنے کیلئے کہا گیا لیکن نوجوانوں نے آواز کم نہیں کی جس کے بعد جلوس پر سنگباری شروع کردی گئی۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے فرقہ وارانہ جھڑپیں ہوئیں ۔ پولیس نے مین مارکٹ کو فوری بند کروایا اور ہجوم پر آنسو گیاس کے گولے داغے ۔

کوتوالی کے علاقہ میں جہاں عوام کے دو فرقوں کے درمیان جھڑپوں میں 4افراد زخمی ہوگئے کشیدگی پھیل گئی ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس سچندرا پٹیل نے کہا کہ دو فرقوں کے درمیان کل جھڑپیں شروع ہوگئی تھیں جن میں 4 افراد سنگباری سے زخمی ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ تاحال 18 افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ تقریباً تین دن سے اس علاقہ میں کشیدگی پھیلی ہوئی ہے ۔ تین دن قبل اقلیتی طبقہ کے چند لڑکوں کی مبینہ طور پر ایک شادی خانہ میں جو دلتوں کے محلے میں واقع ہے باراتیوں سے تکرار ہوگئی تھی کیونکہ وہاں قابل اعتراض گیت بجائے جارہے تھے ۔مبینہ طور پر تکرار کرنے والے نوجوانوں کو زدوکوب کر کے بھگادیا گیا تھا ۔ وڈودھرا سے موصولہ اطلاع کے بموجب پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا اور فسادیوں کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا ۔ ایک جلوس کے دوران جو راجپوت سورما مہارانا پرتاپ کی یوم پیدائش تقریب کے سلسلہ میں وادی علاقہ میں کل رات ایک جلوس نکالا گیا تھا جس کے دوران پُرتشدد واقعات پیش آئے اور بعض افراد زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔ دونوں فرقوں کے ارکان نے ایک دوسرے پر سنگباری کی تھی جس سے ایک عبادت گاہ کی کھڑکیوں کے شیشوں کو اور وہاں کھڑی ہوئی چند گاڑیوں کے شیشوں کو نقصان پہنچا تھا ۔ پولیس نے فسادیوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس شیل داغے تھے اور لاٹھی چارج کیا تھا ۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ کرنی سینا نے اس جلوس کے اہتمام کیلئے اجازت حاصل کی تھی ۔ پولیس نے مقامی شہریوں کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلیا ہے ۔ مبینہ طور پر جلوسی نعرہ بازی کررہے تھے جو ایک خاص فرقہ کے خلاف تھی ۔