اہل ثروت کو غریبوں ، یتیموں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنے کی تلقین

شہر میں جمعۃ الوداع کا خشوع و خضوع سے اہتمام ، آئمہ کا خطاب ، مکہ مسجد میں لاکھوں مصلیوں کی شرکت
حیدرآباد۔15جون(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں جمعۃ الوداع کا انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ اہتمام عمل میں آیا ۔ شہر کی جامع مساجد و بڑی مساجد میں جہاں جمعہ کے اجتماعات منعقد ہوئے ان مقامات پر عامۃ المسلمین نے بدیدۂ نم ماہ رمضان المبارک کو الوداع کیا ۔ تاریخی مکہ مسجد میں محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مناسب انتظامات نہ کئے جانے کے سبب مصلیان میں برہمی دیکھی گئی جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ عجلت میں انتظامات ممکن نہیں ہوپائے حالانکہ مصلیان مکہ مسجد کی مسلسل کئی شکایات کے باوجود ماہ رمضان المبارک کے دوران بھی مسائل کو حل نہیں کیا گیا جبکہ صدرنشین وقف بورڈ مکہ مسجد کے مسائل کو حل نہ کئے جانے کے متعلق متواتر برہمی کا اظہار کرتے رہے۔جمعۃ الوداع کے موقع پر دونوں شہروں میں سب سے بڑا اجتماع تاریخی مکہ مسجد میں دیکھا گیا مولانا حافظ محمد رضوان قریشی خطیب و امام مکہ مسجد نے جمعہ کی امامت کی اور خطبہ دیا۔ اس کے علاوہ شاہی مسجد باغ عامہ ‘ مسجد عالمگیر‘ مسجد عزیزیہ ‘ مسجد حسینی ‘ جامع مسجد دارالشفاء‘ جامع مسجد اے بیاٹری لائین‘ جامع مسجد چوک ‘ جامع مسجد ٹین پوش ‘ مسجد زم زم کے علاوہ شہر کی دیگر مساجد میںبڑی تعداد میں مصلیان اکرام نے جمعۃ الوداع ادا کیا ۔ مساجد میں جمعہ کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران آئمہ نے امت کو تلقین کی کہ وہ اپنے صدقہ فطر کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کریں اور نماز عید الفطر کو پہنچنے سے قبل صدقہ فطر ادا کردیں۔ آئمہ اکرام نے کہا کہ صدقۂ فطر کی ادائیگی روزوں کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کا کفارہ ہے اسی لئے اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ اس کے علاوہ اہل ثروت کو غریب ‘ یتیم اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنی چاہئے ۔ آئمہ اکرام نے اپنے خطاب کے دوران امت مسلمہ کو لیلۃ الجائزہ کے اہتمام کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ اللہ کے انعام سے محروم نہ رہیں بلکہ عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کی سنتوں کی بھی پابندی کرنے کی کوشش کریں۔ ماہ رمضان المبارک کے بعد نمازوں کی پابندی کا سلسلہ جاری رکھنے کی تلقین کرتے ہوئے علماء اکرام نے کہا کہ نماز رمضان کے بعد بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح رمضان المبارک کے دوران فرض ہے اسی لئے نماز کے متعلق کوتاہی سے گریز کرنا چاہئے اور اللہ سے دعاء کرتے رہیں کہ اللہ ہماری زندگیوں کو رمضان کی طرح بنادے اور عبادتوں میں خشوع و خضوع پیدا کرے۔علماء اکرام نے اپنے اردو خطابات کے دوران زکواۃ و صدقات کی اہمیت سے واقف کروا یا اور آپس میں تحفہ تحائف عطیات کو فروغ دیں تاکہ محبت و اخوت میں اضافہ ہو۔