تہذیبی آثار کو آنکھوں کے سامنے مٹتا دیکھ کر مقامی عوام میں مایوسی،ارباب مجازکی لاپرواہی پربرہمی
اورنگ آباد۔22 جون(سیاست نیوز) اورنگ آباد کے تاریخی شاہکار ’’پن چکی‘‘ کا مشہور اور تاریخی دروازہ کل رات شہر میں ہوئی بارش کی وجہ سے آج اچانک گرگیا جس سے مقامی عوام میں مایوسی اور ارباب مجاز کے علاوہ وقف بورڈ کے خلاف برہمی پائی جاتی ہے کیونکہ مقامی عوام نے اپنی آنکھوں کے سامنے اسلاف کے عظیم کارناموں کے نقوش کو اس طرح مٹتے دیکھ کر مایوسی اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔اس ضمن میں اظہار خیال کرتے ہوئے مقامی سینئر شہری شیخ یوسف الدین نے کہا کہ پن چکی اورنگ آباد کی تاریخی شناخت ہے اور اسکی سیر کے لئے ہندوستان کے کونے کونے سے ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں جن میں حضرت بابا شاہ مسافرؒ سے عقیدت اور تاریخی مقامات سے دلچسپی دونوں ہی شامل ہیں۔ پن چکی کی تاریخی اہمیت کے ساتھ ہی اس دروازہ کی بھی اہمیت ہے جو کہ ایک نالے پر بنے قدیم کمان میں نصب ہے جو خود میں کئی داستانیں سموئے ہوئے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ارباب مجاز یہاں موجود پن چکی اور اس سے منسلک تاریخی یادگاروں کے تحفظ میں نہ صرف تساہل کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ وہ اس کی بقاء میں بھی ناکام ہیں جیسا کہ کئی مرتبہ پن چکی اور اس میں موجود تقریباً تین سوسالہ قدیم لائبریری بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہی ہے۔ اس لائبریری میں آج بھی ہزاروں کی تعداد میں نادر ونایاب کتابی اور قلمی نسخے موجود ہیں لیکن موجودہ دورمیں یہ علمی ذخیرہ کباڑخانے میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اس لائبریری کے تعلق سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب حضورنظام نے پایہ تخت حیدرآباد منتقل کیا تو اورنگ آباد سے کتابوں کا بڑا ذخیرہ حیدرآباد منتقل کیا گیا لیکن اس کے باوجود یہاں کافی ساری کتابیں اور قلمی نسخے موجود ہیں تاہم اردو والوں کی لاعلمی اور ریاستی وقف بورڈ کی کوتاہی سے آج بڑا علمی اور تاریخی ذخیرہ کے ناپید ہونے کا خدشہ ہے۔ اورنگ آباد کے تاریخی شاہکار میں پن چکی کا شمار ہوتا ہے۔ پن چکی اور بی بی کا مقبرہ دیکھنے کے لیے غیرملکی سیاح اورنگ آباد کا رخ کرتے ہیں۔ پن چکی دراصل حضرت مولانا عاشور المعروف بابا شاہ مسافرؒ اور حضرت شاہ محمد سعیدعرف پلنگ پوشؒ کی خانقا ہیں ہیں۔ ان ہی خانقاہوں میں باباشاہ مسافرکا کتب خانہ بھی تھا۔ جس کا قیام آصف الدولہ اول کے دور میں یعنی سترہویں صدی عمل میں آیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اپنے دور کے جید عالم اور اسلامی اسکالر غلام علی آزاد بلگرامیؒ جب اورنگ آباد آئے اور انھوں نے لائبریری دیکھی تو پھر وہ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ اورنگ آباد میں غلام علی آزاد بلگرامی نے سات قلمی نسخے تحریر کیے، جن میں کچھ قلمی نسخے انتہائی بوسیدہ حالت میں موجود ہیں۔اورنگ آباد میں تین سو سالہ قدیم بابا شاہ مسافرؒ لائبریری کا کوئی پرسان حال نہیں۔ لائبریری کے ریکارڈ کے مطابق آج بھی یہاں ڈھائی ہزار کتابوں کا نایاب ذخیرہ ہے لیکن جس کمرے کو لائبریری کے طور پر بتایا جاتا ہے وہاں محض چند کتابیں اور شہنشاہ ہند اورنگ زیب عالمگیر کے ہاتھوں کا تحریر کردہ قرآن کریم کے نسخے ہیں۔ جبکہ تاریخ کے جانکاروں کا دعوی ہے کہ یہ اپنے دور کی ایشیا کی سب سے مقبول ترین لائبریری تھی۔ کتابوں کے تعلق سے استفسار کیا تو وقف بورڈ کے ریکارڈ سیکشن میں چند بوسیدہ الماریوں میں کتا بیں مقفل ہیں۔ پانچ تا آٹھ الماریوں میں لاوارث کی حالت میں ان کتابوں اور قلمی نسخوں کو انتہائی بے دردی سے ایک کونے میں ٹھونس دیا گیا ہے، جن کا کوئی نگہبان نہیں۔مقامی عوام نے شکایت اور برہمی کے عالم میں کہا کہ اورنگ آباد کے شاندار ماضی کے نقوش جہاں گزرتے وقت کی ستم ظرفی سے مٹ رہے تودوسری جانب خود اپنے ارباب مجاز کی لاپرواہی اور مجرمانہ خاموشی بھی اس میں برابر کی حصہ دار ہے۔