انتخابات میں کے سی آر کو برقی شاک لگنا یقینی ‘ ریونت ریڈی

کارگذار چیف منسٹر کو ناکامی کا خوف لاحق ہوگیا ہے ۔ قطب اللہ پور میں اقلیتی قائدین سے خطاب
حیدرآباد ۔ 7 اکٹوبر (سیاست نیوز) کارگذار چیف منسٹر کے چندرا شیکھرراؤ کو انتخابات میں ناکامی کا خوف لاحق ہوچکا ہے ۔اور اس شکست کے ڈر و خوف کی وجہ سے کے سی آر اپنا دماغی توازن کھو کر نچلی سطح کی باتیں کر رہے ہیں ۔ عہدہ کا پاس و لحاظ رکھ لینے کے موقف میں نہیں ہیں ۔ آج حلقہ اسمبلی قطب اللہ پور میں کانگریس اقلیتی قائدین کے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کارگذار صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اے ریونت ریڈی نے کہا کہ تلنگانہ عوام نے کے سی آر کو اقتدار سونپا تاہم کے سی آر نے اقتدار پر گرفت کمزور ہوتی دیکھ کر قبل از وقت اسمبلی کو تحلیل کر دیا ۔ انہوں نے کہاکہ ریاست میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہوچکا ہے پولیس اب آزادانہ موقف اختیار کرتے ہوئے اپنا کام کرسکتی ہے ۔ ریونت ریڈی نے تلنگانہ عوام پر زور دیا کہ اگروہ (60) دن ہمارے لئے وقت دیں گے تو ہم آئندہ 60 ماہ تک تلنگانہ سماج کی ترقی کیلئے کام کرینگے ۔ انہوں نے کے سی آر کو دہلی میں رہنے وزیراعظم مودی کا نوکر قرار دیا اور عوام سے استفسار کیا کہ آیا دہلی میں رہنے والے مودی کے نوکر چندردشیکھرراؤ ہمارا چیف منسٹر ہونا چاہئے ؟گذشتہ انتخابات میں عوام سے کئے وعدوں کو پورا نہ کرنے کا ٹی آر ایس پر الزام عائد کرتے ہوئے ریونت ریڈی نے کہاکہ کانگریس اقتدار حاصل کرنے کے بعد تمام وعدوں کو پورا کریگی۔ انہوں نے کہاکہ آئندہ انتخابات میں تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو برقی شاک ‘ لگنا یقینی ہے کیونکہ گذشتہ انتخابات میں کامیابی کے بعد چندرشیکھرراؤ جیسے ہی چیف منسٹرمنتخب ہوئے کے سی آر کا خاندان ہی ترقی کرسکا نہ تلنگانہ عوام ترقی کرسکے اور نہ ہی تلنگانہ کی کوئی ترقی ممکن ہوسکی ۔ چندر شیکھرراؤ نے شہیدان تلنگانہ کو تک فراموش کر دیا ۔ شہیدان تلنگانہ کے افراد خاندان کے حالات زندگی سے واقفیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اقتدار کیلئے تلنگانہ جذبات سے کھلواڑ کیا ۔ ریونت ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ سے کے سی آر حکومت کا خاتمہ کرنے تلگودیشم قائد چندرابابونائیڈو نے کانگریس کی تائید سے اتفاق کیا ۔