الور ہجومی تشدد : پولیس کی ناکامی کا اعتراف ‘ ایک عہدیدار معطل

تین ملزمین گرفتار۔ پولیس کی جانب سے بھی متوفی کو زد و کوب کے الزامات ۔ تحقیقات کیلئے کمیٹی کی تشکیل

الور / جئے پور / نئی دہلی 23 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) راجستھان کے الور ضلع میں ایک 28 سالہ نوجوان اکبر خان کو گئو دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کردئے جانے کے بعد اب راجستھان میں چار پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی گئی ہے کیونکہ یہ شکایت سامنے آئی تھی کہ اس واقعہ کے بعد انہوں نے اپنے فرائض کی انجام دہی میں تغافل برتا تھا ۔ اس کے علاوہ مرکزی حکومت نے اس واقعہ پر راجستھان حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اس طرح کے واقعات کو روکنے میں ناکامی پر راجستھان کی وسندھرا راجے حکومت کے خلاف تحقیر عدالت کے مقدمہ کی سماعت سے بھی اتفاق کرلیا ہے ۔ اس کے علاوہ پولیس نے ایک خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے تاکہ ان الزامات کی تحقیقات کی جاسکیں کہ اکبر کو گئو دہشت گردوں کے حملے کے بعد پولیس نے بھی زد و کوب کیا تھا اس کے علاوہ اسے دواخانہ پہونچانے میں کافی تاخیر کی گئی تھی ۔ عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔ اس دوران راجستھان پولیس نے یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اکبر پر حملے کے معاملہ میں اس سے فیصلہ کرنے میں غلطی ہوئی ہے ۔ پولیس نے ایک سب انسپکٹر کو معطل کردیا ہے جبکہ تین پولیس اہلکاروں کا تبادلہ کردیا گیا ہے ۔ راجستھان پولیس نے اکبر کی تاہم تحویل میں موت ہونے کا الزام مسترد کردیا ہے ۔ مقامی پولیس عملہ کی لاپرواہی کے الزامات کے دوران ایک اعلی سطح کے پیانل کا قیام عمل میں لایا گیا تھا جس نے چار پولیس اہلکاروں کو فرائض کی انجام دہی میں تغافل کا مرتکب پایا ہے ۔ اس رپورٹ کے بعد اسسٹنٹ سب انسپکٹر موہن سنگھ کو معطل کردیا گیا ہے جو اس وقت رام گڑھ پولیس اسٹیشن کا انچارچ تھا ۔ اس کے علاوہ تین کانسٹیبلوں کو پولیس لائن ٹرانسفر کردیا گیا ہے ۔ اڈیشنل ڈائرکٹ جنرل ( لا اینڈ آرڈر ) این آر کے ریڈی نے جو تحقیقاتی پیانل کے رکن تھے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے یہ سمجھا تھا کہ زخمی کی حالت نازک نہیں ہے اس لئے اسے پہلے پولیس اسٹیشن منتقل کیا گیا تاکہ پہلے گائیوں کو شیلٹر منتقل کیا جائے ۔ پولیس عملہ نے اکبر کو پانی اور چاہئے پیش کی ۔ اس طرح یہ ان کے فیصلہ کرنے کی غلطی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ واضح ہوا ہے کہ پولیس اہلکار متوفی کو تحویل میں مار پیٹ میں ملوث نہیں تھے ۔ تاہم پولیس نے کہا کہ یہ تحویل میں ہوئی موت کا کیس نہیں ہے اور مقامی پولیس کی جانب سے جو کچھ ہوا ہے وہ ان کے فیصلہ کرنے کی غلطی تھی ۔ اس دوران ایک ویڈیو بھی سوشیل میڈیا پر وائرل ہوا ہے جس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر موہن سنگھ یہ اعتراف کر رہا ہے کہ اس سے غلطی ہوئی ہے ۔ اس نے ویڈیو میں یہ کہا کہ ’’ مجھ سے غلطی ہوگئی ۔ کیسے بھی مان لو ‘ سزا دو یا چھوڑ دو ‘‘ ۔ ایس پی الور راجیندر سنگھ نے کہا کہ یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ مقامی پولیس نے اکبر خان کو مارپیٹ کی اور اسے دواخانہ پہونچانے میں تاخیر کی ۔ ان الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ اس دوران مرکزی وزارت داخلہ نے ریاستی حکومت سے اس واقعہ پر رپورٹ طلب کرلی ہے ۔ اس واقعہ پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان الزامات و تنقیدوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا ہے ۔ اس دوران پولیس نے اکبر خان کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کے معاملہ میں تین افراد کو گرفتار کرلیا ہے ۔ دو ملزمین دھرمیندر یادو اور پرمجیت سنگھ کو ہفتہ کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ تیسرے ملزم نریش سنگھ کو کل گرفتار کیا گیا اور وہ فی الحال پانچ دن کی پولیس تحویل میں ہیں۔ اس دوران ایک اور اطلاع میں کہا گیا ہے کہ ایک اور ویڈیو منظر عام پر آیا ہے جس میں یہ ملزمین متاثرہ نوجوانوں سے کہہ رہے ہیں کہ ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ وہ رکن اسمبلی کے آدمی ہیں۔ ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیا کہ انہیں نذر آتش کردیا جائے ۔ اس ویڈیو کو بھی سوشیل میڈیا پر کافی گشت کروایا گیا ہے ۔