افرازل قتل ۔ ادئے پور میں احتجاج کرنے والوں کا بیان’ مسلم ویڈیو‘ مظاہرے کی وجہہ

اودئے پور۔شمبھولا ل ریگر کی گرفتاری کے بعد 14ڈسمبر کو پیش اودئے پور میں پیش ائے احتجاج کے سبب علاقے میں دفعہ 144کا نفاذ عمل میں لاگیا ہے اورعلاقے کا33سالہ کشن سونی اس پرتشدد احتجاج کی وجہہ سے گرفتار کئے گئے کئی نوجوانوں کی ضمانت کرانے میں کی فراغ میں ہے۔

کشن سوانی دراصل ایک سرکاری ٹیچر ہے اور اودئے پور میں ہندو جاگرن منچ کا علاقائی صدر بھی ہے۔انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق سرکاری عہدیدار کے پتھراؤ میں زخمی ہونے کے بعد نوجوانوں کو گرفتار کیاگیا تھا ۔

گرفتار کئے گئے 207میں سے 153لوگوں کو ہندو تنظیم سے پولیس کی بات چیت کے بعد رہا کردیا گیا۔سونی کے مطابق گرفتار کئے گئے لوگوں کا کسی تنظیم سے تعلق نہیں ہے ‘ ا س کا دعوی ہے کہ وہ ریگر کی حمایت میں نہیں ائے تھے مگر افرازل کے قتل کے پیش نظر 8ڈسمبر کو نکالی گئی’’ مسلم ریالی‘‘ میں لگے اشتعال انگیز نعروں کی جانب سے مذکورہ لوگوں نے احتجاج کیا ہے۔

اودئے پور میں شیوسینا کے میڈیا انچارج21سالہ گوراو ناگڈا کا کہنا ہے کہ’’ اس ویڈیو میں مظاہرین نعرے لگاتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں کہ ’ ہندوستان میں رہنا ہے تو اللہ اکبر کہنا ہوگا‘‘۔

اس نے مزیدکہاکہ سوشیل میڈیا پر اس ویڈیو کے خلاف احتجاج کے لئے تمام لوگوں کو جمع ہونے کی ایک’’ بڑی مہم‘‘چلائی گئی۔وہیں پر صدر انجمن کمیٹی ادوئے پور محمد خلیل نے ان دعوؤں کو مسترد کردیا او رکہاکہ ’’ ہمارے پاس ریالیوں کے دوران مسلم سماج کی جانب سے سنجیدہ نعرے دئے جاتے ہیں۔

اللہ اکبر کا مطالب ہے ’ اللہ بڑا ہے‘اور ہمارا خواجہ کا نعرہ خواجہ معین الدین چشتی سے منسوب ہے‘‘۔ درایں اثناء ہندو تنظیم کے کارکنوں نے افرازل کے قتل کو حق بجانب قراردیا ہے۔

شیو سینا کے ایک رکن نے گنیش وائشانو نے کہاکہ ’’ اگر ’لوجہاد‘ کے خلاف جلد از جلد کوئی قانون نہیں بنے گاتو مزید ریگر وں کے آگے آنے کا موقع ہے۔ ریگر فی الوقت ہندوسماج کی ضرورت کا احساس کی نشانی کے طور پر سامنے آیاہے‘‘۔

پولیس کے مطابق احتجاجی مظاہرے کے لئے آنے والے زیادہ تر لوگ اودئے پور کے باہر سے ائے ہوئے تھے۔سپریڈنٹ ادوئے پور پولیس راجندر پرساد نے کہاکہ ہم 8ڈسمبر کی ریالی کے ویڈیو کا بھی مشاہدہ کررہے ہیں۔انہو ں نے کہاکہ ’’ اب حالات مکمل طور پر قابو میں ہیں‘‘۔