منامہ : عمان نے ہفتہ کے روز کہا کہ یہ تسلیم شدہ امر ہے کہ اسرائیل مشرق وسطی کا ایک ملک ہے جس سے ایک روز قبل عمان نے اسرائیل کے وزیر اعظم کی میزبانی کی تھی ۔جس کے بارے میں امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ علاقائی امن کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا ۔
سلطنت کے اموت خارجہ کے ذمہ دار وزیر یوسف بن علوی عبد اللہ نے بحرین میں سلامتی کے ایک سربراہ اجلاس کو بتایا کہ عمان اسرائیل اورفلسطینیوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے میں مدد کرنے کیلئے تیار ہے ۔ تاہم وہ ثالث کے طور پر کردار ادا نہیں کررہا ہے۔یوسف بن علوی نے کہا کہ اسرائیل خطہ ہی ایک ملک ہے جوبات ہم سبھی جانتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھی اس حقیقت سے واقف ہے ۔ اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے عمان کا غیر متوقع دورہ کیا تھا جس کے چند ہی روز قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے اس خلیجی ملک کا سہ دوزہ دورہ کیا تھا ۔ بن علوی نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ راستہ اب آسان ہے اور ہر طرف پھول کھلے ہیں لیکن ہمارے لئے اولیت اس بات کی ہے کہ تنازع کو ختم کیا جائے اور نئی دنیا کی جانب قدم اٹھائے جائیں ۔
انہوں نے کہا کہ عمان امریکہ پر انحصار ہے جس کے لئے صدر امریکہ ڈونالڈ مرمپ امن کیلئے صدی کے بڑے معاہدہ کے حصول کو کوشش کررہے ہیں۔ اسی دوران سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا کہ ان کا ملک سمجھتا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی چابی امن وسلامتی ہی ہے۔ سہ روزہ اجلاس میں سعودی عرب اور بحرین شریک تھے ۔ امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس اور ان کے اطالوی اور جرمن ہم منصب بھی اجلاس میں شریک تھے ۔لیکن اردن کے شاہ عبداللہ نے اپنا دورہ منسوخ کردیا چونکہ بحرہ مردار کی طغیانی کے نتیجہ میں ان کے ۲۱؍ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔

You must be logged in to post a comment.