اجودھیا تنازع کی مصالحت کی کوشش استھا کی بنیاد پر نہیں بلکہ حق ملکیت کی بنا پر ہونی چاھیئے :مولانا سید ارشد مدنی

ملت اسلامیہ ہندیہ کے عظیم رہنما حضرت مولانا سید ارشد مدنی نے پھر ایک بار فریقین کو مصالحت کے ذریعے ایودھیا تنازع کے حل کرنے کی صلاح دی ہے ۔تا ہم عدالت عظمی نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھا ہے ، عدالت کے آئینی بینچ نے سبھی فرقوں کی دلیلیں سننے کے بعد ثالثی کا نام بتانے کہا ہے ۔
ادھر اپنا رد عمل ظاھر کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ اگر تنازع کا حل بات چیت سے کیا جائے تو اس سے بہتر کچھ ہو ہی نہیں سکتا اور جمیعت علمائے ہند کی ابتدا سے ہی کوشش رہی ہے کہ اس مسئلہ کو اپسی بات چیت سے ہی حل کیا جائے اس سلسلہ میں متعدد مٹنگیں بھی ہوئی مگر اسکا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۔
مولانا مدنی نے مزید وضاحت کی کہ چونکہ عدالت اپنی نگرانی میں مصالحت کرنے کی کوشش میں ہیں اس لئے ہم عدالت کا احترام کرتے ہوئے اس بات چیت کے لئے تیار ہیں ، لیکن بات چیت اعتقاد کے بنیاد پر نہیں بلکہ حق ملکیت کے بنا پر ہونی چاھیئے ۔ انہوں نے عدالت کے ایک سابقہ تبصرہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالت پہیلے ہی وضاحت کر چکی ہے کہ اسکا فیصلہ حق ملکیت کے بنا پر ہوگا ۔