نئی دہلی : دہلی کے بیگم پور تھانے کے تحت ایک مدرسہ میں زیر تعلیم آٹھ سالہ طالب علم کو اکثریتی فرقہ کے چند شر پسند عناصر نے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا ۔ اس کو لے کر عوام میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی ۔ جہاں ایک جانب سیاسی اورسماجی شخصیات نے سرکار سے ملزمین کے ساتھ سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو وہیں دوسری جانب مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ دنوں دہلی کے مالویہ نگر میں واقع جامعہ فریدیہ میں زیر تعلیم محمد عظیم نامی ایک آٹھ سالہ معصوم بچہ کو نفرت کی بنیاد پر ہجومی تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ جب وہ معصوم مدرسہ کے میدان میں کھیل رہا تھا ۔
اس تعلق سے مسلم مجلس عمل کے سکریٹری جنرل سید طارق بخاری نے کہا کہ مرکزی حکومت نے جو ملک میں نفرت کا ماحول بنایا ہے وہی اس کی اصل قصوروار ہیں ۔ بھیڑ اتنی خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے کہ ایک معصوم طالبعلم کا بھی قتل کرنے سے باز نہیںآتے ۔اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ انہوں نے افسو س کے ساتھ کہا کہ اب تو معصوم بچے بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ سابق رکن پارلیمان صابر علی نے کہا کہ یہ معصوم بچے کے ساتھ جو سانحہ پیش آیا وہ انتہائی بد بختانہ ہے۔ اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت کارروائی کرے او رملزمین کو جلد سے جلد گرفتار کرے۔ مولانا سید اطہر حسین دہلوی نے کہا کہ یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال آج ملک میں پیدا ہوگئی ہے ۔
جس طریقہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ نیوز اینکر مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں وہ زہر گلی کوچوں میں عوام میں پھیل گیا ہے۔ مولانا اطہر نے کہا کہ یہ اس طرح کا پہلا واقعہ نہیں ہے کہ مدرسہ کے بچے پر تشدد کیاگیا ہو اس سے قبل بھی اس طرح کا واقعہ پیش آچکا ہے۔ مدرسہ باب العلوم کے ایک بچہ کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ایم آئی ایم (دہلی ) کے صدر عمر فاروق نے کہا کہ معصوم بچے کے ساتھ جس طرح درندگی کی گئی ہے وہ انتہائی شرمناک او رقابل مذمت ہے ۔ انہو ں نے کہا کہ متاثرہ بچے کو انصاف دلانے کیلئے ہماری پوری ٹیم کھڑی ہے۔ او رضرورت محسوس ہوتو حکومت کے خلاف سڑکوں پر احتجاج بھی کرنے تیا رہیں ۔