آج رات صدی کا طویل ترین سورج گہن ‘ ملک بھر میں نظارہ

مطلع ابر آلود ہونے کی صورت میں مایوسی بھی ممکن ۔ مریخ ‘ زمین اور سورج بھی ایک قطار میںآجائیں گے
حیدرآباد 27 جولائی ( سیاست نیوز ) جاریہ صدی کا سب سے طویل چاند گہن آج رات ( 27/28 جولائی ) کو ہوگا ۔ یہ سال 2018 کے دوران رونما ہونے والے جملہ پانچ گہنوں میں سے چوتھا ہوگا ۔ جاریہ سال تین چاند گہن اور دو سورج گہن کی پیش قیاسی کی گئی تھی ۔ اس کے علاوہ ہر 26 ماہ میں ایک بار ہونے والی نادر فلکیاتی تبدیلی بھی ہوگی جب مریخ سورج کے مقابل آجائیگا ۔ ڈائرکٹر بی ایم برلاس پلانیٹوریم ڈاکٹر بی جی سدھارتھ نے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مکمل چاند گہن ہوگا اور سارے ہندوستان میں دیکھا جاسکے گا ۔ دنیا بھر میں یہ گہن انتارتیکا ‘ آسٹریلیا اور روس میں بھی دیکھا جاسکے گا ۔ اس کے علاوہ اسے انتہائی شمالی ایشیاء ‘ افریقہ ‘ انکانڈانیویا ‘ یوروپ ‘ وسطی اور مشرقی جنوبی امریکہ میں اسے دیکھا نہیں جاسکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں سات سال قبل 2011 میں ہوئے چاند گہن کے برخلاف اس بار یہ گہن 2018 میں دوسری اور آخری مرتبہ ہوگا جسے سارے ہندوستان میں ابتداء سے آخر تک دیکھا جاسکے گا ۔ اسی طرح مکمل چاند گہن کو دیکھنے کا ایک اور موقع 2025 میں بھی دستیاب ہوسکتا ہے ۔ عوام کیلئے یہ ایک نادرفلکیاتی نظارہ کا موقع ہوگا ۔ آئندہ مکمل چاند گہن 21 جنوری 2019 کو ہوگا لیکن وہ چونکہ صبح کی ابتدائی ساعتوں میںہوگا اس لئے ہم اسے دیکھ نہیں پائیں گے ۔ اس کے علاوہ 17 جولائی 2019 کو سورج گہن ہوگا جو جزوی رہے گا اور اس کا جزوی نظارہ ہی ممکن ہوسکے گا ۔ اس کے بعد 2020 میں بھی چاند گہن ہونگے لیکن انہیںدیکھا نہیں جاسکے گا ۔ علاوہ ازیں 2021 میں مکمل سورج گہن 26 مئی کو اور 19 نومبر کو ہوگا اور یہ جزوی سورج گہن ہونگے اور دونوں ہی کو دیکھنا ممکن نہیں رہے گا ۔ 2022 میں سورج گہن 8 نومبر کو ہوگا لیکن وہ جزوی ہی دیکھا جاسکے گا اور وہ بھی صرف آخری حصے میں۔ 2023 میں بھی ایک سورج گہن ہوگا جو 28 اکٹوبر کو ہوگا اور اسے جزوی مرحلہ میں ہندوستان بھر میں دیکھا جاسکے گا ۔ سال 2024 میں دو سورج گہن ہونگے لیکن انہیں ہندوستان میں نہیںدیکھا جاسکے گا ۔ آخر میں 14 مارچ 2025 کو مکمل چاند گہن ہوگا جو ہندوستان سے دیکھا نہیں جاسکے گا ۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2025 کو بھی ایک مکمل چاند گہن ہوگا اور اس وقت یہ سارے ہندوستان میںدیکھا جاسکے گا ۔ اس دوران اب جبکہ سارے ملک میں سائنسدان کل صدی کے سب سے بڑی چاند گہن کا نظارہ کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ابر آلود مطلع نظلارہ خراب کرسکتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ اب مانسون چل رہا ہے ایسے میں آسمان پر بادل بھی ہوسکتے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ جموں و کشمیر اور ٹاملناڈو کے عوام اس گہن کا سب سے واضح نظارہ کرسکیں گے ۔ 27 جولائی کی رات مکمل چاند گہن کے ساتھ ایک اور فلکیاتی عمل ہوگا جب مریخ ‘ زمین اور سورج ممکنہ حد تک ایک ہی قطار میں آجائیں گے ۔ یہ عمل رات 10.37 بجے ہوگا ۔