ہندوستان کی جیش کے ٹھکانوں پر پاکستان میں بم باری ‘ دہشت گردی پر جنگ میں ایک نئی لائن کی تحریر

مذکورہ فضائی حملہ پاکستان کے جوابی ردعمل کا امتحان بھی ہے ‘ کیونکہ ہندوستان نے اپنی تمام تر توجہہ عالمی کمیونٹی سے سفارتی بات چیت کی تجدید کی ہے تاکہ اسلام آباد کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کرے جو کوئی اور کاروائی کی وجہہ بن سکتا ہے۔

نئی دہلی۔ دہشت گردی کے پچھلے تین دہوں میں سب سے خطرناک جموں کشمیر میں پیش ائے دہشت گرد انہ حملے کے اندرون پندرہ دن سے کم وقت میں منگل کے روز ہندوستان نے پاکستان کے اندر داخل ہوکر فضائی حملہ کیا ‘ 1971کی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ ہندوستان نے مذکورہ ملک کے اتنی اندر جاکر کسی نشانے پر وارکرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنی حکمت عملی کے موازانہ میں ایک نیا باب کھول دیاہے۔

یہ نہ صرف دونوں نیوکلیر ہتھیاروں سے لیز ممالک کے درمیان بڑھتی روایتی قربت کی سیڑھی کو ایک چیالنج ہے بلکہ اری سرجیکل اسٹرائیک کے بعد اسلام آباد کو ایک سخت پیغام روانہ کیاگیا تھا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے کی سخت قیمت چکانی پڑے گی۔

مذکورہ فضائی حملہ پاکستان کے جوابی ردعمل کا امتحان بھی ہے ‘ کیونکہ ہندوستان نے اپنی تمام تر توجہہ عالمی کمیونٹی سے سفارتی بات چیت کی تجدید کی ہے تاکہ اسلام آباد کوئی اقدام اٹھانے سے گریز کرے جو کوئی اور کاروائی کی وجہہ بن سکتا ہے۔

خط قبضہ سے پاکستان میں 80کیلومیٹر اندرپاکستان کے خیبر پختوان صوبہ میں دہشت گرد کیمپوں پر فضائی حملے کرتے ہوئے‘ ہندوستان نے ’’ غیر فوجی‘‘ نشانوں کا انتخاب کیا‘ مذکورہ جیش دہشت گردی کے یہ کیمپ چلاتا تھا‘ اور اپنے اس فضائی حملے کویہ کہتے ہوئے حق بجانب قراردیتے ہوئے دہلی نے کہاکہ دہشت گردی کے بعد دوسرے حملے کی تیاری کرنے والوں کے ساتھ ’’ پہلی جذباتی ‘‘ کاروائی ہے۔

منگل کے روز 11:30کو تقریبا چھ گھنٹوں بعد پاکستان آرمی کے ترجمان نے پہلی مرتبہ یہ خبر دی کہ انڈین ائیر فورس نے لائن آف کنٹرول کی خلا ف ورزی کی ‘ مذکورہ حکومت نے اس بات کی توثیق کی کہ خیبر پختون کے بالا کوٹ میں جے ای ایم کے بڑے ٹھکانوں کو نشانہ بنایاگیا ہے ‘ او رمنگل کی اولین ساعتوں میں کی گئی اس کاروائی کو ’’ غیر فوجی پہلی جذباتی کاروائی‘‘ قراردیا۔

خارجی سکریٹری وجئے گوکھلے نے ایک تیار بیان میں کہاکہ’’ یہ موثر جانکاری ملی تھی کہ جے ای ایم ملک کے مختلف حصوں میں ایک اور حملے کی تیاری کررہا ہے اور فدائن جہادیوں کی اس کام کے لئے ٹریننگ کی جارہی ہے۔

ایک پہلا جذباتی حملے کی ضرورت تھی‘‘ ۔ گوکھلے نے مزید کہاکہ’’ مذکورہ کیمپوں کی دیکھ بھال مسعود اظہر کا سالہ مولانایوسف اظہر کررہاتھا ‘‘۔ گھوکھلے نے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔انہو ں نے اپنے بیان میں نشانہ بنائے جانے کے مقام پر تذکرہ کیا۔

انہو ں نے کہاکہ ’’ رہائشی علاقے سے دور گھنے جنگل میں پہاڑ کے اوپر یہ کیمپ تھے ‘‘۔

وہیں انہو ں نے بالاکوٹ کے خاص مقام کا ذکر نہیں کیا‘ بعد ازاں درائع سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ یہ خیبر پختوان صوبہ کا اعلان ہے ‘ جوپاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی پارٹی پی ٹی ائی کا مضبوط گڑ مانا جاتا ہے ۔

مذکورہ مقام ایل او سی سے 80کیلومیٹر اندر او رایبٹا باد کے قریب ہے ‘ جہاں پر امریکی افواج نے القاعدہ چیف اوسامہ بن لادن کا ڈھیر کیاتھا۔ فضائی حملے کے کچھ گھنٹوں بعد ہی گوکھلے نے پریس کانفرنس کی اور کہاکہ کچھ وقت پہلے ہی فضائی حملہ انجام دیاگیا ہے اور دہلی مزید تفصیلات کی منتظر ہے۔

TOPPOPULARRECENT