کیرالا کے مسلمان معاشی و تعلیمی طور پر بہتر ، شرح آبادی میں اضافہ

اقلیتوں کیلئے حکومت کی جانب سے شروع کردہ کئی اسکیمات پر ناقص عمل آوری، سرکاری پروگراموں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی تجویز

نئی دہلی ۔ /7 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مسلمانوں کی پسماندگی کیلئے اصل وجہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور اعلیٰ تعلیم سے محرومی بتائی جاتی ہے جبکہ نئی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ کیرالا کی مسلم آبادی ملک بھر کے دیگر مسلم آبادیوں کے مقابل بہتر ہے ۔ 2001-2011 ء کے درمیان کیرالا میں مسلم آبادی میں 15 لاکھ تک اضافہ ہوا ہے اور یہاں کے مسلمان معاشی اور تعلیمی سطح پر بہتر مظاہرہ کررہے ہیں ۔ ملک بھر میں مسلمانوں کی بڑی تعداد ناخواندہ اور معاشی طور پر کمزور ہونے کی شکایت پائی جاتی ہے ۔ کیرالا کے مسلمانوں کی خواندگی شرح اور معاشی موقف بہتر ہے ۔ یہاں کی شرح آبادی میں بھی بتدریج اضافہ ہورہا ہے ۔ قومی تناسب کے اعتبار سے کیرالا کے مسلمانوں کی طرز زندگی بھی بہتر ہے ۔ سنٹرل برائے پالیسی تجزیہ کی رپورٹ کے مطابق کیرالا کے مسلم طبقے اور ہندوستان کی اقلیتی پالیسی کا تقابلی جائزہ لیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کیرالا میں مسلمانوں کی آبادی میں 2001 ء میں 3.18 کروڑ سے بڑھ کر 2011 ء میں 3.34 کروڑ ہوگئی ۔ مرکز نے ملک بھر کے مسلمانوں اور کیرالا کے مسلمانوں کے معاشی اور سماجی موقف کا تقابلی جائزہ لیا ہے ۔ اس مدت کے دوران ریاست میں آبادی تیزی سے بڑھ گئی ہے ۔ مسلمانوں کی آبادی میں 10.10 لاکھ کا اضافہ ہوا ۔ ہندوؤں کی آبادی میں 3.62 لاکھ کا اضافہ ہوا جبکہ عیسائیوں کی آبادی میں 84 ہزار کا اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کیرالا کے مسلمانوں کا معاشی موقف مضبوط ہے اور ان کی شرح خواندگی بھی قومی تناسب کے اعتبار سے بہتر ہے ۔ کیرالا کی جملہ آبادی میں ہندوؤں کی آبادی کا تناسب 54.9 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی 26.6 فیصد ہے اور عیسائیوں کی آبادی 18.4 فیصد ہے ۔ تاہم 2015 ء میں ہندوؤں کی آبادی کی شرح 42.87 فیصد تھی۔ جبکہ مسلمانوں کی شرح پیدائش 41.5 فیصد رہی ۔ تعلیم اور ملازمتوں میں مسلم خواتین کا حصہ بھی بہتر ہے ۔ حکومت کو پیش کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت اس رپورٹ کا سنجیدگی سے جائزہ لیں اور ملک میں اقلیتوں سے مربوط مسائل پر توجہ دیں ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے کئی پروگرامس شروع کئے جاتے ہیں لیکن ان اسکیمات پر ناقص عمل آوری سے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوتے ۔ 2011 ء کی مردم شماری سے پتہ چلتا ہے کہ قومی سطح پر خواتین نے ملازمت پیشہ اختیار کیا ہے ۔ ان میں مسلم خواتین کی شرح بہت کم ہے ۔ مسلم خواتین میں کم شرح خواندگی کی وجہ سے بھی انہیں معاشی موقعوں سے محروم رہنا پڑرہا ہے ۔ رپورٹ میں حکومت کو یہ بھی تجویز پیش کی گئی ہے کہ وہ ملک بھر میں مسلمانوں کی بہتری کیلئے اپنے پروگراموں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لائے ۔