کمبھ کے نام پر یوپی حکومت کے میلہ تصادم کی وجہہ بن رہا ہے۔

اس سال15جنوری سے 4مارچ تک گنگا‘ یمونا اور سروستی ندی پر منعقد ہونے والے میلے کو روایتی طور پر ’’ اردھ کمبھ‘ ‘ کہاجاتا ہے۔

نئی دہلی۔ ہندو کیلنڈر کی مناسبت سے الہ آباد میں لاکھوں لوگ کمبھ2019یا پھراردھ کمبھ2019؟ کے جمع ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔اس سال15جنوری سے 4مارچ تک گنگا‘ یمونا اور سروستی ندی پر منعقد ہونے والے میلے کو روایتی طور پر ’’ اردھ کمبھ‘ ‘ کہاجاتا ہے۔

ہر بارہ میں ہونے والا کمبھ کہلایاجاتا ہے اور 144سالوں میں ہونا والے کو مہاکمبھ کہتے ہیں۔یہ سلسلہ 12ڈسمبر2017کو اس وقت شروع ہوا جب چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نہ کمبھ لوگوکی اجرائی عمل میں لائی‘ اور کمبھ کا نام بدل کر ’اردھ کمبھ‘‘ رکھا۔

ڈسمبر22کے روز ان کی حکومت نے ’پریاگ راج اتھارٹی بل ‘ بھی اسمبلی میں متعارف کروایا اور اس تبدیلی کا اعلان بھی چیف منسٹرنے کیاتھا۔ریاستی حکومت کے اقدام سے اپوزیشن اور زیادہ تر ہندو مذہبی شخصیات متفق نہیں ہیں ‘ ان کا کہنا ہے کہ چھ سال میں ایک مرتبہ ہونے والی تقریب کو ’اردھ کمبھ‘ کہاجاتا ہے۔

سماج وادی پارٹی( ایس پی) صدر اکھیلیش یادو نے 2جنوری کے روز ایک ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ حکومت کو اردھ کمبھ کے متعلق سیاسی نہیں کرنا چاہئے۔یوپی اسمبلی میں ایس پی کے اپوزیشن لیڈررام گویند چودھری حکومت کے اقدامات کو ویدوں کی خلاف ورزی قراردیا۔

کانگریس کے لیڈر سمپورآنند نے کہاکہ ’’ کمبھ ہماری تہذیب ہے۔ کسی بھی صورت میں اس کے ساتھ چھیڑ نہیں کی جانی چاہئے‘‘۔

یوپی چیف منسٹر کی جانب سے نام کی تبدیلی سے ٹورازم کے ریونیو میں اضافہ متوقع ہے۔ سمجھا جارہا ہے کہ ’’کمبھ‘‘ سے بارہ کے بجائے ہر چھ سال کے میلے میں زیادہ لوگ جمع ہوتے ہیں۔

بی جے پی نے اپوزیشن کی مخالفت پر تاسف کا اظہار کیا ۔ بی جے پی جنرل سکریٹری وجئے بہادر پٹنائک نے کہاکہ ’’ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو متوجہ کرانے کے کئے حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے اقدامات سے اپوزیشن کیو ں مایوس ہورہی ہے۔

کمبھ کسی سیاسی جماعت کا میلہ نہیں ہے‘ یہ عقیدے اور تہذیب کی بات ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT