کشیدگی کے پیش نظر ویسٹ دہلی کی جامعہ مسجد میں نماز جمعہ کے دورا ن سخت سکیورٹی انتظامات

جمعرات کے روز تیاگی کمیونٹی کے ممبرس کے لئے ایک مہاپنچانیت میں برہمی دیکھی گئی‘ کیونکہ پنچایت میں شریک لوگوں نے مسلمانوں کو اپنے علاقے سے باہر نکلنے اور ان کے ”سماجی بائیکاٹ“پر زوردیا۔

نئی دہلی۔ ہر جمعہ بسائی دراپور جمعہ نے کھلے مقام پر ادا کی جارہی ہے کیونکہ ویسٹ دہلی کی جامعہ کی تعمیر کا کام جاری ہے۔اس جمعہ حالانکہ نماز منہدم چار دیواری کے اندر ہی ادا کی گئی‘ وہاں پر پولیس کی بھاری جمعیت تعینات کردی گئی تھی۔

پڑوس میں اس وقت سے کشیدگی ہے جب 51سالہ شخص کا مبینہ طور پر ایک شخص اور اس کے تین بیٹوں نے قتل کردیاتھا کیونکہ متوفی شخص نے حملہ آواروں کو اس کی بیٹی کے خلاف بے ہودہ تبصرہ کرنے سے باز رکھنے کی کوشش کی تھی۔

متوفی شخص کا بیٹا بھی جو اس حملے میں شدید طور پر زخمی ہوا ہے اسپتال میں زیرعلاج ہے۔جمعرات کے روز تیاگی کمیونٹی کے ممبرس کے لئے ایک مہاپنچانیت میں برہمی دیکھی گئی‘ کیونکہ پنچایت میں شریک لوگوں نے مسلمانوں کو اپنے علاقے سے باہر نکلنے اور ان کے ”سماجی بائیکاٹ“پر زوردیا۔

مسجد کمیٹی نے نائب صدر مجاہد علی نے کہاکہ”ہم متوفی شخص اور اس کی فیملی کے لئے دعاگو ہیں۔ ہم نے نماز کو دوحصوں میں تقسیم کردیا ہے کیونکہ بیک وقت تمام لوگ مسجد میں نہیں آپارہے ہیں“۔

پولیس نے تمام چار ملزمین جس میں دو نابالغ ہیں کو گرفتار کرتے ہوئے ان کے خلاف قتل اور عورت کے ساتھ بدسلوکی کا مقدمہ درج کیاہے۔ اصلی ملزم کی بیوی اور بیٹی کو بھی کو بھی ائی پی سی کے سیکشن 34کے تحت گرفتارکیاگیاہے۔

اس خاندان کا تعلق بہار سے ہے۔مسجد کے باہر متعین پولیس جوان جو اپنی شفٹ کی تبدیلی کا منتظر کھڑا تھا نے کہاکہ”علاقے میں افواہوں کے گشت کرنے کے بعد سینئر افیسروں نے علاقے کا دورہ کیا“۔ ایک افواہ یہ بھی تھا کہ زخمی بیٹے کی اسپتال میں موت ہوگئی ہے۔

ایک 41سالہ پراپرٹی ڈیلر بابو نے کہاکہ ان کابیٹا اور زخمی نوجوان دوونوں ایک ساتھ کھیل کود کر بڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کل رات سے ”ہم اس کی موت کی افواہیں سن رہے ہیں“۔

مہاپنچایت کے پیش نظر کچھ مسلمان فیملی پڑوس میں چلے گئے ہیں۔ وہیں متاثرہ فیملی کی یہی کوشش ہے کہ معاملے کو فرقہ وارنہ دینے سے روکا جائے‘ انہوں نے تسلیم کیا کہ مہاپنچایت کے اجلاس کی وجہہ سے آگ میں تیل کاکام ہوا ہے۔

کاروباری شخص کے بھائی نے کہاکہ ”ہم نے ان لوگوں کو مدعونہیں کیاتھاجنھو ں نے نفرت بھری تقریریں کی ہیں۔

میں نے مسلم کمیونٹی کے لوگوں سے بھی بات کرتے ہوئے کہاکہ ان کے ساتھ بھی ایک میٹنگ کرتے ہوئے علاقے میں امن بحال کرنے کاکام کیاجائے گا“

Leave a Comment