کس کا ساتھ کس کا وکاس ، 4 سال میں دلتوں اور مسلمانوں کی افسوسناک کہانی

نئی دہلی ۔ /18 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت میں ہندوستانی عوام کو ترقی کے خواب دکھائے گئے تھے لیکن ہم ایک ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں عوام کو انتخابات کے نعروں اور جملوں کے ذریعہ دیئے گئے ضروری بیانات کو بھول جانے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ تاہم یہ بھولنا مشکل ہے کہ نریندر مودی نے 2014 ء میں اقتدار حاصل کرنے کیلئے ترقی کا نعرہ لگایا تھا ۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس نعرے کے ذریعہ انہوں نے عوام کا دل جیت لیا تھا ۔ اس نعرے سے یہ مفہوم اخذ کیا گیا کہ تمام کیلئے یکساں ترقی حاصل ہوگی لیکن گزشتہ چار سال کے دوران ایسی کوئی ترقی نہیں دیکھی گئی ۔ سرکاری پالیسیاں بنائی گئیں اور دعویٰ کیا گیا کہ ترقی کو یقینی بنایا جائے گا ۔ مودی حکومت کے دعوے میں جب حقیقت نظر نہیں آئی تو انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا میں ایک کارٹون شائع ہوا ہے جس میں ملک کی موجودہ حقیقی صورتحال واضح ہوتی ہے ۔ ترقی کا نعرہ کس طرح تبدیل ہوا ہے یہ کارٹون میں نمایاں نظرآرہا ہے ۔ آرٹسٹ سندیپ ادھرویو نے کارٹون کے ذریعہ یہ بتادیا ہے کہ ہر گزرتے سال میں ترقی کیا رخ اختیار کرلی ہے اور یہ ترقی آخر میں ایک مسلمان جیسی نظر آنے لگی جس کے چہرے پر داڑھی اُگ آئی ہے اور پینٹ لنگی میں تبدیل ہوگیا ۔ اس سے یہ واضح اشارہ ملتا ہے کہ 2019 ء کی انتخابی مہم ترقی کے بجائے مسلمانوں کے نام پر چلائی جائے گی ۔

اگرچہ کہ وزیراعظم نے متواتر ترقی کی بات کی ہے اور وہ ہندوستان کے سب سے بڑے سماجی اور معاشی مساوات کے مسئلہ کو ٹالتے رہے ہیں ۔ جب سے بی جے پی اقتدار پر آئی ہے اپنی حلیف سنگھ پریوار کے ساتھ مسلمانوں اور دلتوں کے خلاف مہم چلانے پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ آج ترقی پر بات کرنے کے بجائے اس حکومت میں گوشت ، لو جہاد ، گھر واپسی ، ایودھیا ، ملک کی تاریخ میں مغلوں کے رول پر چرچا ہورہی ہے ۔ مرکزی وزراء ہو یا ارکان پارلیمنٹ ، لوک سبھا میں اکثر فر قہ وارنہ خطوط پر اظہار خیال کرتے ہوئے آرہے ہیں ۔ جن قائدین نے ہندوؤں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کا مشور ہ دیتے ہوئے مسلمانوں کو دھمکیاں دی تھی اب وہ انتخابی میدان میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے نعرے لگائیں گے ۔ مزید برآں مرکزی وزیر برائے شہری ہوا بازی جینت سنہا کو حال ہی میں ہجومی تشدد کے کیس میں ماخوذ 8 افراد کو پھول مالا پہناتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ رام گڑھ میں علیم الدین انصاری کا قتل کرنے والے مجرمین کے ساتھ مرکزی وزیر کی ہمدردی اور تہنیت پیش کرنا یہ واضح کرتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں مہم کس نوعیت کی ہوگی ۔ ان ملزمین کو ضمانت پر رہا کیا گیا تھا ۔ ماہرین نے ملک کی موجودہ حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم اقلیت کو یہ پیام دیا گیا ہے کہ یہی نیا ہندوستان ہے جہاں انہیں ایسا موقوف حاصل ہوگا جو اس سے پہلے کبھی حاصل نہیں ہوا تھا ۔